Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hashr 59:16

59:16
كمثل الشيطان اذ قال للانسان اكفر فلما كفر قال اني بريء منك اني اخاف الله رب العالمين ١٦
كَمَثَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَـٰنِ ٱكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٦
كَمَثَلِ
ٱلشَّيۡطَٰنِ
إِذۡ
قَالَ
لِلۡإِنسَٰنِ
ٱكۡفُرۡ
فَلَمَّا
كَفَرَ
قَالَ
إِنِّي
بَرِيٓءٞ
مِّنكَ
إِنِّيٓ
أَخَافُ
ٱللَّهَ
رَبَّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٦
(かれらは)悪魔のように人に向かって,「信仰を捨てなさい。」と言う。(その人が)一度不信心になると,かれは,「わたしはあなたと関わりはない。本当に万有の主アッラーが恐ろしいのである。」と言う。

— Ryoichi Mita

(Những kẻ giả tạo đức tin dối gạt chúng) giống như Shaytan đã lừa gạt con người khi hắn bảo: “Hãy vô đức tin đi!” Nhưng khi con người không tin nơi Allah thì hắn nói: “Ta thực sự không can hệ gì đến ngươi cả, quả thật, ta rất sợ Allah, Thượng Đế của vũ trụ và vạn vật.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 59:16 đến 59:17

کمثل الشیطن .................... الظلمین (71) ” ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر ، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ، اور ظالموں کی یہی جزا ہے “۔

شیطان انسانوں کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہی سلوک منافقین اہل کتاب کافروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن انسان ہیں کہ پھر اس کے کہے پر چلتے ہیں۔ یہ ایک دائمی حقیقت ہے اور قرآن کریم اس عارضی واقعہ کے حوالے سے اسے یہاں بیان کردیتا ہے کہ اس طرح اس جزئی واقعہ سے بھی ایک دائمی اور کلی نصیحت و حکمت اخذ کی جائے اور یوں بات کا دائرہ وسیع ہوجائے۔ اور بات صرف ایکجزئی واقعہ تک محدود نہ رہے۔ قرآن کا یہ اندازہ ہے کہ قرآن دائمی ، اور اعلیٰ حقائق کو بھی ایک جزء کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ کیونکہ محض کلی اور اصولی باتیں خشک فلسفہ بن جاتی ہیں۔ اور انسانی شعور اور دل و دماغ پر ان کا وہ اثر نہیں ہوتا جس طرح ایک مثال اور واقعہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ہے فرق قرآن کے انداز بیان کا اور فلاسفہ اور مدرسین کے انداز بیان کا۔ فلاسفہ صرف فارمولوں کی شکل میں بات کرتے ہیں۔

اس مثال پر بنی نضیر کا قصہ ختم ہوتا ہے اور اس قصے کے درمیان قرآن نے اس قدر حقائق ہدایات اور تصاویر بیان کیں اور ان کی وجہ سے اس جزوی قصے کو آفاقی بنادیا گیا یا اعلیٰ حقائق کو اس قصے کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اور یہ واقعہ ادھر زمین پر چلتا رہا اور ادھر انسانی ضمیر کی اصلاح کا کام کرتا رہا۔ یوں یہ واقعہ ایک واقعہ سے زیادہ درس حکمت اور موجب ہدایت اور عبرت بن گیا۔ انداز بیان اس واقعہ اور ان حقائق کا اللہ کی کتاب میں کچھ اور ہے اور انسان اسے جس طرح بیان کرتے ہیں وہ کچھ اور ہے۔

بنی نظیر کے واقعہ کا یہ بیان ، اس پر تبصرے اور اس کے ضمن میں عظیم حقائق کا بیان اور ہدایات کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اس پیارے لفظ اور پیاری صفت سے کیا جاتا ہے ” اے اہل ایمان “ تاکہ وہ اسے جلدی سے قبول کرلیں۔ سہولت سے عمل پیرا ہوں۔ ان سے کہا جاتا ہے تقویٰ کی راہ اختیار کرو ، یہ دیکھو کہ کل یوم الحشر کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے ، اللہ کو بھول نہ جاؤ جس طرح پہلے لوگوں نے بھلا دیا ، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ اور ان کا برانجام ہوا اور وہ جہنمی ہوگئے۔