Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hijr 15:11

15:11
وما ياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزيون ١١
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ١١
وَمَا
يَأۡتِيهِم
مِّن
رَّسُولٍ
إِلَّا
كَانُواْ
بِهِۦ
يَسۡتَهۡزِءُونَ
١١
だが使徒たちがかれらの許に来る度に,かれらによって嘲笑されない者はなかった。

— Ryoichi Mita

Và không một Sứ Giả nào đến mà lại không bị họ nhạo báng và giễu cợt.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 15:10 đến 15:15

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔