Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hijr 15:20

15:20
وجعلنا لكم فيها معايش ومن لستم له برازقين ٢٠
وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَـٰيِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ ٢٠
وَجَعَلۡنَا
لَكُمۡ
فِيهَا
مَعَٰيِشَ
وَمَن
لَّسۡتُمۡ
لَهُۥ
بِرَٰزِقِينَ
٢٠
われはあなたがたのためにも,またあなたがたが決して養育者たりえないものにも生計の道を与えた。

— Ryoichi Mita

Trên trái đất, TA đã tạo ra những phương tiện sống cho các ngươi (loài người) và cho cả những ai (sinh vật) mà các ngươi không có trách nhiệm nuôi dưỡng.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 15:19 đến 15:20

جغرافی مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین ابتداء ً خشک گولے کی صورت میں تھی پھر وہ پھٹی جس کی وجہ سے سمندر کی گہرائیاں پیدا ہوئیں اور ان میں پانی جمع ہوگیا۔ ان گہرائیوں کو متوازن رکھنے کے لیے زمین پر جگہ جگہ اونچے پہاڑ ابھر آئے۔اس کے بعد زمین پر نباتات اور حیوانات وجو د میں آئے اور خوب پھیلے۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر بڑھنے کی لامحدود صلاحیت ہے، مگر ان کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ہر ایک کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ ہر چیز بڑھتے بڑھتے ایک خاص حد پر رک جاتی ہے، وہ اس سے آگے نہیں جانے پاتی۔

مثلاً پودوں اور درختوں میں اپنی نسل بڑھانے کی اتنی زیادہ استعداد ہے کہ اگر کسی ایک پودے کو اس کی اندرونی استعداد کے اعتبار سے بلا روک ٹوک بڑھنے دیا جائے تو چند سال کے اندر ساری سطح زمین پر ہر طرف بس وہی پودا نظر آئے گا۔ کسی دوسری چیز کے لیے یہاں کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔ مگر ایسا معلوم ہوتاہے کہ کوئی زبردست ناظم ہے جو ہر ایک پر کنٹرول قائم کيے ہوئے ہے۔ یہی معاملہ حیوانات کا ہے۔ ان کے اندر بھی افزائش نسل کی لامحدود صلاحیت ہے۔ مگر ہر ایک کی تعداد ایک حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی طرح حیوانات میں اپنی جسامت بڑھانے کی استعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک پتنگے کو بڑھنے دیا جائے تو وہ ہاتھی کے برابر ہوجائے۔ مگر قدرتی کنٹرول ایک خاص حد پر اس کی جسامت کو روک دیتاہے۔ اگر چیزیں اپنی حد پر نہ رکیں تو زمین پر انسان کی رہائش ناممکن ہوجائے گی۔

انسان کو اپنی معیشت اور تمدن کے لیے بے شمار چیزیں درکار ہیں۔ یہ ساری چیزیں عین ہماری ضرورت کے مطابق زمین پر مہیا کردی گئی ہیں۔ ان تمام چیزوں کی فراہمی اور ہر ایک کی بقا کا انتظام خدا کی طرف سے ہے۔ اگر ہم کو ان كے ليے رزق كا انتظام كرنا ہو تو ہمارے لیے ان کا حصول نا ممکن ہوجائے۔