Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hijr 15:40

15:40
الا عبادك منهم المخلصين ٤٠
إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ ٤٠
إِلَّا
عِبَادَكَ
مِنۡهُمُ
ٱلۡمُخۡلَصِينَ
٤٠
かれらの中で誠実な(恩恵により清められた)あなたのしもベの外は。」

— Ryoichi Mita

“Ngoại trừ những bề tôi nào của Ngài có tấm lòng chân tâm (thờ phượng Ngài) trong bọn chúng.”

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 15:39 đến 15:40

آیت نمبر 39 تا 40

یہاں ابلیس نے اپنا میدان جنگ خود ہی متعین کردیا ہے ، یہ کہ وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا۔

لا زینن لھم فی الارض ” مین زمین میں ان کے لئے اپنے دل فریبیاں پیدا کروں گا “۔ اسی طرح اس نے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار کا بھی اعلان کردیا۔ وہ یہ کہ میں غلط اور مضر اعمال کو ان کے لئے خوشنما بناؤں گا۔ برے کو بھلا قرار دوں گا۔ مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے ان کو دام فریب میں گرفتار کروں گا۔ چناچہ جو شخص بھی شرکا ارتکاب کرتا ہے وہ تب ہی کرتا ہے کہ شیطان اس کے لئے اسے خوشنما بنا دیتا ہے۔ شر کو وہ خیر کا لباس پہناتا ہے اور وہ شر کو ہرگز شر کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ شیطانی حربے کو اچھی طرح سمجھ لے انسان کو ہر اس معاملے پر چوکنا ہو کر غور کرنا چاہئے ۔ جس چیز کو خوشنما بنا دیا گیا ہو اور جس کی طرف نفس انسانی کا میلان زیادہ ہو ، اس بات کا غالب امکان ہے کہ ایسے معاملات کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوگا انسان شیطان کے ان خوشنما ہتھیاروں سے تب ہی بچ سکتا ہے کہ وہ تعلق باللہ کو ہر وقت مضبوط رکھے ، اللہ کی بندگی کماحقہ ادا کرے کیونکہ شیطان خود اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے مخلص بندوں کے مقابلے میں اس کے یہ ہتھیار کندہوں گے۔ وہ کہتا ہے۔

ولاغوینھم اجمعین (39) الا عبادک منھم المخلصین (40) (15 : 39- 40) ” میں ان سب کو بہکا دوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کرلیا ہو “۔ اور ہر دور میں اللہ اپنے بعض بندوں کو خالص کرلیتا ہے۔ جبکہ اللہ کے وہ بندے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیتے ہیں اور وہ اللہ بندگی اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر شیطان کے حربے کارگر نہیں ہوتے ۔

شیطان نے یہ استثناء خود کردیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کائنات میں سنت الٰہیہ کیا ہوگی ؟ اور یہ کہ سنت الٰہیہ سے فرار ممکن نہیں ہے۔ سنت الہٰیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بندوں کو اپنے لیے چن لے گا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کردیا۔ ایسے بندے اللہ کی حمایت میں ہوں گے۔ اللہ کی زیر نگرانی ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی صاف صاف جواب دے دیا :