— Ryoichi Mita
— Rowwad Translation Center
آیت نمبر 43 تا 44
سات دروازے کا لفظ محض عدد کا اظہار ہے یا واقعی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے دونوں معنوں کے لینے سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گمراہوں کی کئی اقسام اور درجات ہیں اور گمراہی کی بھی کئی شکلیں اور رنگ ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے لوگوں کے لئے ایک دروازہ مخصوص ہوگا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے۔
یہ قصہ اب مقام عبرت اور غرض وغایت کے بیان کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے کہ انسان کی ذات میں اس کا مادی پہلو کس طرح انسان کے روحانی پہلو پر غالب آجاتا ہے اور یہ کہ جو لوگ تعلق باللہ کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کو دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ آخر میں گمراہوں کے انجام کے بالمقابل بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کا انجام کس قدر خوبصورت ہوگا۔