Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hijr 15:47

15:47
ونزعنا ما في صدورهم من غل اخوانا على سرر متقابلين ٤٧
وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍۢ مُّتَقَـٰبِلِينَ ٤٧
وَنَزَعۡنَا
مَا
فِي
صُدُورِهِم
مِّنۡ
غِلٍّ
إِخۡوَٰنًا
عَلَىٰ
سُرُرٖ
مُّتَقَٰبِلِينَ
٤٧
われはかれらの胸にある拘わりを除き,(かれらは)兄弟として高位の寝椅子の上に対座する。

— Ryoichi Mita

“TA sẽ tẩy sạch bộ ngực của họ khỏi tất cả các dấu vết của sự oán hận và thù hằn, và họ sẽ ngồi trên những chiếc ghế dài đối mặt nhau như anh em.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 15:45 đến 15:50

جنت کی زندگی بے خوف زندگی ہوگی۔ اس کے مستحق وہ لوگ قرار پائیںگے جنھوں نے دنیا میں خدا کا خوف کیا۔ دنیا میں خدا کا خوف آخرت کی بے خوفی کی قیمت ہے۔

آپس کی رنجشیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک سرکشی کی وجہ سے، دوسری غلط فہمی کی وجہ سے۔ سرکشی کی بنا پر رنجش اور عناد پیدا ہونا سب سے بڑی اجتماعی برائی ہے۔ اہل ایمان کو اسے دنیا ہی میں ختم کرلینا ہے۔ جو لوگ اس کو دنیا میں ختم نہ کریں وہ آخرت میں جہنم کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

دوسری رنجش وہ ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کبھی ختم ہوجاتی ہے اور کبھی طرفین کے اخلاص کے باوجود آخر وقت تک باقی رہتی ہے۔ یہ دوسری قسم کی رنجش آخرت میں مکمل طورپر ختم ہوجائے گی۔ کیوں کہ آخرت حقیقتوں کے کامل ظہور کی دنیا ہے۔ جب تمام حقیقتیں بے نقاب ہو کر سامنے آجائیں گی تو ایک مخلص آدمی کے لیے کوئی وجہ باقی نہ رہے گی کہ وہ کیوں اپنے بھائی کے خلاف خواہ مخواہ رنجش رکھے۔

جنت کی زندگی اتنی لطیف اور نفیس زندگی ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ دنیا کی لذتیں اور خوشیاں آنے والی لذتوں اور خوشیوں کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہیں۔ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جس جنت کا تعارف اتنا لذیذ ہو وہ خود کتنی زیادہ لذیذ ہوگی۔

موجودہ دنیا میں کوئی شخص بالفرض ہر قسم کی لذتیں جمع کرلے تب بھی طرح طرح کی ناخوشگواریاں اس کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ مگر جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی لذّتیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں سے پاک ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ جیوگے اور کبھی نہ مروگے۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے تم کو یہاں سے کبھی جانا نہ ہوگا (يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَمْرَضُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أبدا، وإن لكم أَنْ تُقِيمُوا فَلَا تَظْعَنُوا أَبَدًا) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 539