Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Infitar 82:5

82:5
علمت نفس ما قدمت واخرت ٥
عَلِمَتْ نَفْسٌۭ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ ٥
عَلِمَتۡ
نَفۡسٞ
مَّا
قَدَّمَتۡ
وَأَخَّرَتۡ
٥
それぞれの魂は,既にしたことと,後に残したことを知る。

— Ryoichi Mita

(Lúc đó), mỗi linh hồn sẽ biết những gì nó đã gởi đi trước và những gì còn bỏ lại.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

علمت .................... واخرت (5:82) ” اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہوجائے گا “۔ یعنی جو پہلے کیا اور جو بعد میں کیا ، یا یہ کہ جو اس نے دنیا میں کیا اور جو اچھے اور برے آثار دنیا میں چھوڑے یا جو دنیا میں عیش کیا اور جو آخرت کے لئے ذخیرہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان عظیم حادثات اور انقلابات کے بعد ہر شخص اگلا پچھلا جان لے گا۔ یہ حادثات میں ہر حادثہ ہی خوفناک ہوگا۔

قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ملاحظہ کیجئے۔ کہا جاتا ہے۔

علمت نفس ” نفس یہ جان لے گا “۔ نفس سے یہاں مراد ہر نفس ہے لیکن ” ہر “ کو حذف کرنا بات کو نہایت نفیس اور خوبصورت بنا دیتا ہے۔ بات یہاں آکر ختم نہیں ہوجاتی کہ ہر ایک شخص اپنے تمام اعمال کا پورا پورا علم حاصل کرلے گا۔ بلکہ اس علم کے انسان پر شدید اثرات ہوں گے۔ جس طرح کہا جاتا ہے اچھا تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ اگرچہ آیت میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ کیا اثرات ہوں گے نفس پر۔ لیکن یہ ان عظیم کائناتی حادثات سے بھی سخت ہوں گے۔ انداز کلام سے اس مفہوم کا انعکاس ہوتا ہے۔

یہ تھا ایک ایسا مطلع جس نے انسانی احساس و شعور اور عقل وخرد کو یوں بیدار کردیا۔ اب اگلے پیرے میں انسان کی موجودہ حالت پر ایک تبصرہ آتا ہے کہ یہ انسان کس قدر غافل اور لاپرواہ ہے ، یہاں انداز عتاب نہایت ہمدردانہ ہے اور اس عتاب میں سرزنش اور جھڑکی کا پہلو درپردہ ہے۔ اور بظاہر بات اللہ کی عنایات پر تدبر کی گئی ہے۔ خصوصاً انسان کی موجودہ ، متوازن اور خوبصورت اور معتدل شکل و صورت میں پیدائش کو مدنظررکھتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بات تھی کہ انسان کو موجودہ معتدل اور متوازن شکل و صورت اور جسم کے اعضاء سے فرو تر شکل دے دیتا لیکن اللہ نے اسے ایسی صورت دی کہ جو تکنیکی اور خوبصورتی دونوں اعتار سے بےمثال ہے۔ کیا انسان پر لازم نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں پر غور کرے اور شکر ادا کرے۔