Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:104

17:104
وقلنا من بعده لبني اسراييل اسكنوا الارض فاذا جاء وعد الاخرة جينا بكم لفيفا ١٠٤
وَقُلْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ لِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱسْكُنُوا۟ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْـَٔاخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًۭا ١٠٤
وَقُلۡنَا
مِنۢ
بَعۡدِهِۦ
لِبَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
ٱسۡكُنُواْ
ٱلۡأَرۡضَ
فَإِذَا
جَآءَ
وَعۡدُ
ٱلۡأٓخِرَةِ
جِئۡنَا
بِكُمۡ
لَفِيفٗا
١٠٤
われはその後,イスラエルの子孫たちに言った。「この地に住み着きなさい。だが来世の約束が来る時,われはあなたがたを烏合の衆にするであろう。」

— Ryoichi Mita

Và TA (Allah) đã phán bảo với dân Israel sau (khi tiêu diệt) hắn: “Các ngươi hãy định cư tại vùng đất (Sham)1 cho đến khi lời hứa sau cùng xảy đến, TA sẽ tập trung các ngươi lại, trộn lẫn với nhau.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 17:103 đến 17:104

فاراد ان یستفزھم من الارض (71 : 301) ” آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے “۔ تمام ڈکٹیٹر اور سرکش لوگ کلمہ حق کے بارے میں یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ ان کے پاس کلمہ حق کا یہی جواب ہوتا ہے۔

اس مقام پر آکر ایسے سرکشوں پر اللہ کا کلمہ اور اللہ کی سنت کا اطلاق برحق ہوجاتا ہے اور پھر اللہ کی اٹل سنت کے مطابق ، ظالموں کو ہلاک کردیا جاتا ہے اور زمین کے اندر جو کمزور اہل ایمان اور صبر کرنے والے طبقات ہوتے ہیں ، ان کو زمین کو وارث بنا دیا جاتا ہے۔

فاغرقنہ………(401) (71 : 301۔ 401) ” مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو ، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا ، تو ہم تو سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے “۔

یہ تھا انجام آیات الٰہی کے جھٹلانے کا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کے اقتدار کا وارث ان لوگوں کو بنایا ، جو زمین میں پسے ہوئے تھے۔ اور اب ان کو کہا گیا کہ تمہارے مستقبل کا دار و مدار تمہارے اعمال و افعال پر ہوگا۔ اس سورت کے آغاز میں بتا دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ یہاں صرف یہ کہا جاتا ہے کہ تم اور تمہارے دشمن اب قیامت کے سپرد ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو تم سب کو لپیٹ کر اللہ لے آئے گا۔

یہ تھی مثال اس پیغمبر کی جو نو خوارق عادت معجزات لے کر آئے اور ان کا استقبال جھٹلانے والوں نے اس طرح کیا۔ اور اللہ کی اٹل سنت نے پھر اپنا کام یوں کیا۔ رہا یہ قرآن تو یہ تو ایک ابدی سچائی لے کر آیا ہے۔ اور اسے تھوڑا تھوڑا کرکے وقفے وقفے کے بعد نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کو پڑھ کر مہلت بعد مہلت کے ساتھ سنائیں۔