Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:11

17:11
ويدع الانسان بالشر دعاءه بالخير وكان الانسان عجولا ١١
وَيَدْعُ ٱلْإِنسَـٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلْخَيْرِ ۖ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ عَجُولًۭا ١١
وَيَدۡعُ
ٱلۡإِنسَٰنُ
بِٱلشَّرِّ
دُعَآءَهُۥ
بِٱلۡخَيۡرِۖ
وَكَانَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
عَجُولٗا
١١
人間の祈りは幸福のためであるべきなのに,かれは災厄のために祈る。凡そ人間はいつも性急である。

— Ryoichi Mita

Con người thường vội vã cầu xin điều xấu (cho bản thân, tài sản hoặc cho con cái của mình) giống như y vội vã cầu xin điều tốt vậy; con người vốn thật hấp tấp và nóng vội.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

یہ اس لئے کہ وہ معاملات کے انجام سے بالکل بیخبر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی کام کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور درحقیقت وہ شر ہوتا ہے اور اس کے کے گزرنے میں وہ بہت جلدی کرتا ہے ، بعض اوقات وہ کسی کام کو شر سمجھ کر کرتا ہے لیکن وہ خیر ہوتا ہے۔ غرض انسان کسی بھی کام کے عواقب و نتائج کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ جبکہ قرآن کریم جو ہدایت دیتا ہے وہ نہایت ہی سیدھی ، نہایت ہی دھیمی اور پروقار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی رہنمائی والی راہ جدا ہے اور انسان کی خود طے کردہ راہ جدا ہے۔ اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہے۔

سابقہ آیات میں چند معجزانہ اشارات تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے واقعہ معراج اور اس کے اندر پائے جانے والے معجزات ، حضرت نوح (علیہ السلام) کا معجزانہ طور پر طوفان سے بچنا اور ان لوگوں کی طرف اشارہ جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے۔ تاریخ بنی اسرائیل کے مدوجزر اور اور ان میں اللہ کے معجزانہ فیصلے اور اقوام کے عروج وزوال کے اصول کے طرف اشارہ ” اور انسانی زندگی میں مکافات عمل اور قرآن کریم کی کتاب ہدایت اور منہاج عمل ہونے کی طرف اشارہ۔

ان تمام معجزانہ امور کے بعد اب روئے سخن معجزات کائنات کی طرف پھرجاتا ہے ، ان سابقہ معجزات کا صدور تو پیغمبروں کے ذریعہ ہوا۔ لیکن یہ معجزات ایسے ہیں کہ ہر کسی کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ ان کائناتی معجزات کے ساتھ انسانی زندگی کی جدوجہد اور انسانی اعمال بھی وابستہ ہیں۔ انسانی اعمال اور جدوجہد کا نتیجہ ان قوانین قدرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چناچہ جس طرح انسانی عمل اور مکافات عمل کا اصول کائنات میں رواں دواں ہے ۔ اسی طرح نوامیس فطرت کے اصول بھی انسانی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں ، جس طرح انسانی ، عمران کچھ قواعد پر مبنی ہے ، اسی طرح یہ کائنات بھی بعض قواعد پر مبنی ہے۔ اور اس کے اندر کوئی تخلف نہیں ہوتا۔ رات و دن کا یہ نظام جس طرح نہایت ہی اٹل قواعد پر مبنی ہے اسی طرح سنت الہیہ بھی اس کائنات میں جاری وساری ہے اور اس کے اصول بھی اٹل ہیں ۔ او وہ بھی اسی ژات باری کے ارادے سے چل رہے ہیں جس کے ارادے سے رات و دن چل رہے ہیں۔