Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:12

17:12
وجعلنا الليل والنهار ايتين فمحونا اية الليل وجعلنا اية النهار مبصرة لتبتغوا فضلا من ربكم ولتعلموا عدد السنين والحساب وكل شيء فصلناه تفصيلا ١٢
وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ ءَايَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَآ ءَايَةَ ٱلَّيْلِ وَجَعَلْنَآ ءَايَةَ ٱلنَّهَارِ مُبْصِرَةًۭ لِّتَبْتَغُوا۟ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍۢ فَصَّلْنَـٰهُ تَفْصِيلًۭا ١٢
وَجَعَلۡنَا
ٱلَّيۡلَ
وَٱلنَّهَارَ
ءَايَتَيۡنِۖ
فَمَحَوۡنَآ
ءَايَةَ
ٱلَّيۡلِ
وَجَعَلۡنَآ
ءَايَةَ
ٱلنَّهَارِ
مُبۡصِرَةٗ
لِّتَبۡتَغُواْ
فَضۡلٗا
مِّن
رَّبِّكُمۡ
وَلِتَعۡلَمُواْ
عَدَدَ
ٱلسِّنِينَ
وَٱلۡحِسَابَۚ
وَكُلَّ
شَيۡءٖ
فَصَّلۡنَٰهُ
تَفۡصِيلٗا
١٢
われは夜と昼の2つの印を設け,夜の印を暗くした。だが昼の印は明るくして,あなたがたに(働いて)主の恩恵を祈らせ,また年数を知り,(暦法を)計算させる。われは凡てのことを詳細に説き明かした。

— Ryoichi Mita

TA (Allah) tạo ban đêm và ban ngày thành hai dấu hiệu (chứng minh quyền năng của TA như kéo dài ban ngày và thu ngắn ban đêm và ngược lại…), rồi TA xóa đi (ánh sáng) của dấu hiệu ban đêm (để các ngươi - con người - ngủ nghỉ) và TA làm cho dấu hiệu ban ngày sáng tỏ để các ngươi tìm kiếm thiên lộc của Thượng Đế của các ngươi và để các ngươi nhận biết năm tháng, tính toán mùa vụ; và tất cả mọi thứ đều được TA phân giải chi tiết.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وہ قوانین قدرت جو رات و دن کو کنٹرول کرتے ہیں ، انہی کے ساتھ انسان کے کسب اور جدوجہد کا تعلق بھی ہے۔ رات اور دن کی بنیاد پر سالوں کا حساب ہوتا ہے ، انہی کے ساتھ انسانی کسب و عمل بھی منسلک ہے۔ وہ اچھائی کرے یا برائی کرے اس پر جزاء و سزا مرتب ہوگی۔ اسی کے ساتھ ہدایت و ضلالت بھی مربوط ہے۔ اور تمام امور میں انفرادی ذمہ داری کا اصول کارفرما ہے ، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ اسی پر یہ اصول بھی طے ہوا ہے کہ اللہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک رسول نہ بھیج دے۔ اور اسی سے یہ اصول بھی مربوط ہے کہ جب اللہ کسی بستی کو ہلاک کرتا ہے تو تب کرتا ہے کہ اس کے مترفین اس نسبتی میں فسق و فجور اور دنگا فساد برپا کردیتے ہیں۔ اسی پر یہ اصول بھی مبنی ہے کہ بعض لوگ صرف دنیا کو طلب کرتے ہیں اور بعض آخرت کے طلبگار ہوتے ہیں ، تو اہل دنیا کو اللہ دنیا دیتا ہے اور اہل آخرت کو اللہ آخرت دیتا ہے۔ یہ تمام امور خواہ دینی اور عمرانی ہوں یا تکوینی دونوں ایک ہی ناموس الٰہی کے مطابق چلتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں جاری کر رکھا ہے۔ اور یہ ناموس الٰہی اور یہ سنت المیہ اٹل ہے۔ اس کے اصولوں کے اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی چیز بھی محض اتفاقی نہیں ہے۔

وجعلنا الیل والنھار ایتین فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ لتبتغوا فضلنا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب وکل شئی فصلنہ تفصیلا (71 : 21) ” دیکھو ، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بےنور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو۔ اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا۔

رات اور دن اس کائنات کی نہایت ہی بڑی نشانیاں ہیں اور رات اور دن کے نظام کا اصول نہایت ہی دقیق اور باریک اصول پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کبھی کوئی خلل واقع نہیں ہوا ، اس میں کبھی بھی تعطیل واقع نہیں ہوئی ، یہ رات اور ون وائما چل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ (فمحونا) سے مراد کیا ہے۔ تو (فسحونا) کا مفہوم یہی معلوم ہوتا ہے کہ رات کو روشنی نہیں ہوتی۔ اس میں اس کائنات کی حرکات اور نظارے اچھی طرح نظر نہیں آتے۔ ظاہر ہے کہ دن کی سرگرمیوں اور رنگا رنگیوں کے مقابلے میں رات کو محو اور بےنور کہہ سکتے ہیں۔ دن کھلا ہے جس میں سب کچھ نظر آتا ہے اور رات ذرا محو ہے کہ اس مین دن کی طرح سب کچھ نظر نہیں آتا۔ رات کو محو ، اس لئے رکھا گیا اور دن کو کھلا اس لئے رکھا گیا ہے کہ

لتبتغوا فضلا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والھساب (71 : 21) ” تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو “۔ رات آرام ، سکون اور ملاپ کا وقت ہوتا ہے اور دن جدوجہد ، کسب و کمائی اور قیام و سفر کے لئے ہوتا ہے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کی وجہ سے ماہ و سال کا حساب مکمل ہوتا ہے۔ وعدے کے وقت کا حساب ، موسم اور فصل کا حساب غرض تمام معاملات کا حساب رات اور ان کے نظام سے قائم ہے۔

وکل شئی فصلنہ تفصیلا (71 : 21) ” اور ہم نے ہر چیز کو الگ ممیز کرکے رکھ دیا ہے “۔ یعنی اس کائنات میں کوئی چیز ’ کوئی اہم اور غیر اہم بات ہم نے محض بخت و اتفاق کے حوالے نہیں کی بلکہ وہ ہمارے ناموس قدرت کے مطابق ہے۔ یا قانون قدرت پوری طرح مفصل اور جامع اور دقیق ہے مثلاً رات اور دن کی گردش ہی کو دیکھئے۔ اس سے اس کائنات کے مدبر کی گہری تدبیر کا ثبوت ملتا ہے۔

جس طرح کائنات میں ایک مکمل ضابطہ کارفرما ہے۔ اسی طرح جزاء و عمل اور قانون و مکافات عمل بھی ایک نہایت ہی گہرا اور اٹل ضابطہ ہے۔