Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:24

17:24
واخفض لهما جناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا ٢٤
وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًۭا ٢٤
وَٱخۡفِضۡ
لَهُمَا
جَنَاحَ
ٱلذُّلِّ
مِنَ
ٱلرَّحۡمَةِ
وَقُل
رَّبِّ
ٱرۡحَمۡهُمَا
كَمَا
رَبَّيَانِي
صَغِيرٗا
٢٤
そして敬愛の情を込め,両親に対し謙虚に翼を低く垂れ(優しくし)て,「主よ,幼少の頃,わたしを愛育してくれたように,2人の上に御慈悲を御授け下さい。」と(折りを)言うがいい。

— Ryoichi Mita

Các ngươi hãy đối xử khiêm nhường bằng lòng nhân từ đối với họ, và các ngươi hãy cầu nguyện: “Lạy Thượng Đế của bề tôi, xin Ngài rủ lòng thương xót cha mẹ của bề tôi giống như hai người họ đã thương yêu, nuôi nấng và chăm sóc bề tôi lúc hãy còn bé.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ (71 : 42) ” اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو “۔ یہاں نہایت ہی نرم اور شفاف انداز بیان اختیار کیا گیا ہے انداز بیان کے اندر اطاعت اور بندگی اور وفا شعاری کو مجسم کردیا گیا ہے یعنی اس طرح بچھ جائو اور اس قدر برخوداری اختیار کرو کہ گویا ” جھکنا “ ایک مجسم پرندے کی شکل میں کھڑا ہے اور اس کے پر ہیں اور اس نے اپنے پر بھی بچھا رکھے ہیں۔

وقل رب ارحمھما کما زبینی صغیرنا (71 : 42) ” اور دعا کیا کرو ، پروردگار ، ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا “۔ خوشگوار یادیں ہیں۔ محبت کی یادیں بچپن کی یادیں اور ماں اور باپ کی محبت کی یادیں۔ لیکن اس یاد سے انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ اب یہ مشفق والدین اسی طرح تمہاری شفقت کے محتاج و ۔۔۔ ہیں۔ جس طرح تم تھے اور دعا اس لئے کی گئی کہ انسانی شفقت و رحمت کے مقابلے میں اللہ کی رحمت و شفقت زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت و شفقت کا دائرہ نہایت ہی وسیع ہے اور انہوں نے اپنی اولاد کے ساتھ جو محنت و مشقت کی ہے اس کا اجر صرف اللہ ہی دے سکتا ہے۔ اولاد کے لئے یہ ممکن ہے کہ والدین کو وہ رحم اور شفقت دے سکیں جس کے وہ حق دار ہیں۔

حافظ ابوبکر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔ انہوں نے حضرت برید سے انہوں نے اپنے والد سے کہ ایک شخص طواف میں تھا اور وہ اپنی والدہ کو اٹھا کر طواف کرا رہا تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں نے اسی طرح اپنی والدہ کا حق ادا کردیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں “۔ بلکہ ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔

انسان کے تمام تاثرات اور حرکات چونکہ انسانی نظریہ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور نظریہ کی اساس پر وجود میں آتے ہیں اس لئے ان تمام احکام کے آخر میں تمام امور کو اللہ کی طرف لوٹایا جاتا ہے ، جو نیتوں کو جانتا ہے اور احوال اور افعال کے پیچھے جو نیت ہے ، اس سے بھی واقف ہے۔