Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:31

17:31
ولا تقتلوا اولادكم خشية املاق نحن نرزقهم واياكم ان قتلهم كان خطيا كبيرا ٣١
وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَـٰدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَـٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْـًۭٔا كَبِيرًۭا ٣١
وَلَا
تَقۡتُلُوٓاْ
أَوۡلَٰدَكُمۡ
خَشۡيَةَ
إِمۡلَٰقٖۖ
نَّحۡنُ
نَرۡزُقُهُمۡ
وَإِيَّاكُمۡۚ
إِنَّ
قَتۡلَهُمۡ
كَانَ
خِطۡـٔٗا
كَبِيرٗا
٣١
貧困を恐れてあなたがたの子女を殺してはならない。われはかれらとあなたがたのために給養する。かれらを殺すのは,本当に大罪である。

— Ryoichi Mita

Các ngươi chớ đừng giết con cái của mình vì sợ nghèo khổ (ở tương lai), (bởi) chính TA (Allah) mới là Đấng ban phát bổng lộc cho chúng và cho cả các ngươi. Quả thật, việc giết chúng là một đại trọng tội.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی کے نتیجے میں کسی بھی سوسائٹی کے اندر عملی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ نظریاتی بےراہ روی کی وجہ سے صرف نظریہ ہی خراب نہیں ہوتا یا اس کے نتیجے میں محض مذہبی مراسم میں کمزوری نہیں آتی بلکہ سوسائٹی کا اجتماعی نظام بھی خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا نظریہ درست ہو تو صرف اس کی عبادت ہی درست نہیں ہوجاتیں بلکہ اس سوسائٹی کا عملی نظام ، اس کے اجتماعی ادارے بھی صحیح و سلامت ہوجاتے ہیں اور درست سمت میں کام کرتے ہیں۔ اور لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کی یہ رسم محض غلط عقیدے پر قائم کی تھی کہ لڑکیوں کی وجہ سے غربت آتی ہے ، جب یہ عقیدہ پیدا ہوا کہ رزاق صرف اللہ ہے تو اس کے بعد قتل اولاد خود بخود موقوف ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی نظریہ زندگی پر عملاً اثر انداز ہوتا ہے۔ نظریہ محض خلا میں نہیں ہوتا یا محض کسی شخص کے دماغ تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ کہ وہ عمل کی دنیا تک اترتا ہے۔

اب ہم چاہتے ہیں کہ قرآن کے انداز تعبیر کی ایک نہایت ہی گہری مثال پر قدرے غور کریں۔ یہ عجیب لطیف مثال ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے رزق کو آباء کے رزق پر مقدم رکھا۔

نحن نرقھم وایاکم (71 : 13) ” ہم تمہاری اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔

نحن نرزقکم وایاھم (6 : 151) ” ہم تمہیں اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔

نحن نرزقکم وایاھم (6 : 151) ” ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہاری اولاد کو بھی “۔ کیونکہ دونوں آیات کے مفہوم میں ایک دوسرا اختلاف ہے۔ پوری آیات یوں ہیں :

ولا تقتلوا اولاد کم خشیۃ املاق نحن نرزقھم وایاکم (71 : 13) اور انعام میں یوں تھی :

ولا تقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقکم ویاھم (6 : 151) یہاں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد کو اس لئے قتل نہ کرو کہ تم غریب ہوجائو گے۔

خشیۃ املاق (71 : 13) اس لئے اللہ نے فرمایا کہ اولاد کا رزق ہم پر ہے۔ اور انعام یہ تھا من املاق یعنی فقر اور تنگی رزق پہلے سے موجود تھے ، اس لئے والدین کے رزق کو پہلے لایا گیا۔ یہ ایک لطیف فرق ہے اور اسی وجہ سے تقدیم و تاخیر کا یہ عمل ہوا۔

قتل اولاد کی ممانعت کی نسبت ہی سے ممانعت زنا کا حکم آتا ہے۔