Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:45

17:45
واذا قرات القران جعلنا بينك وبين الذين لا يومنون بالاخرة حجابا مستورا ٤٥
وَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ حِجَابًۭا مَّسْتُورًۭا ٤٥
وَإِذَا
قَرَأۡتَ
ٱلۡقُرۡءَانَ
جَعَلۡنَا
بَيۡنَكَ
وَبَيۡنَ
ٱلَّذِينَ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
بِٱلۡأٓخِرَةِ
حِجَابٗا
مَّسۡتُورٗا
٤٥
あなたがクルアーンを読唱する時,われはあなたと来世を信じない者との間に,見えない幕を垂れる。

— Ryoichi Mita

Khi Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) xướng đọc Qur’an, TA (Allah) đặt một bức màn vô hình ngăn cách giữa Ngươi và những kẻ vô đức tin nơi Đời Sau.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 17:45 đến 17:46

یہاں جس چیز کو ’’چھپا ہوا پردہ‘‘ کہا گیا ہے وہ دراصل نفسیاتی پردہ ہے۔ اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ آدمی بطورخود اپنے ذہن میں کسی غیر صداقت کو صداقت کا مقام دے دے۔ ایسے شخص کے سامنے جب ایک ایسا حق آتا ہے جس کے مطابق اس کی مفروضہ صداقتوں کی نفی ہورہی ہو تو ایسی بے آمیز دعوت اس کے لیے ناقابل فہم بن جاتی ہے۔ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کی سمجھ میں نہیںآتا کہ ایسی دعوت بھی سچی دعوت ہوسکتی ہے جس کو ماننے کی صورت میں وہ چیز باطل قرار پائے جس کو اب تک وہ مسلّمہ صداقت سمجھے ہوئے تھا۔ وہ نئی دعوت کے دلائل کا توڑ نہیں کرپاتا۔ تاہم اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا کہ یہی وہ مطلق صداقت ہے جس کو اسے دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر مان لینا چاہیے۔

بے آمیز صداقت کا اعلان ہمیشہ دوسری مفروضہ صداقتوں کی نفی کے ہم معنی ہوتاہے۔ اس لیے اس کو سن کر وہ لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو اس کے سوا دوسری چیزوں یا شخصیتوں کو بھی عظمت اور تقدس کا مقام دئے ہوئے ہوں۔ ان کے اندر آخرت کی جواب دہی کا یقین نہ ہونا انھیں غیر سنجیدہ بنادیتاہے اور غیر سنجیدہ ذہن کے ساتھ کوئی بات سمجھی نہیں جاسکتی۔