Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:5

17:5
فاذا جاء وعد اولاهما بعثنا عليكم عبادا لنا اولي باس شديد فجاسوا خلال الديار وكان وعدا مفعولا ٥
فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًۭا لَّنَآ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ فَجَاسُوا۟ خِلَـٰلَ ٱلدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًۭا مَّفْعُولًۭا ٥
فَإِذَا
جَآءَ
وَعۡدُ
أُولَىٰهُمَا
بَعَثۡنَا
عَلَيۡكُمۡ
عِبَادٗا
لَّنَآ
أُوْلِي
بَأۡسٖ
شَدِيدٖ
فَجَاسُواْ
خِلَٰلَ
ٱلدِّيَارِۚ
وَكَانَ
وَعۡدٗا
مَّفۡعُولٗا
٥
それで2つの中最初の時(預言)が来た時,われはしもべの中の武勇に富んだ者を,あなたがたに遣わし,かれらは家々の最も奥に入り,約束は成し遂げられた。

— Ryoichi Mita

Khi lời hứa đầu tiên trong hai lời hứa đó đến, TA (Allah) sẽ gởi một đám bề tôi của TA có sức mạnh hùng hậu đến tàn phá nhà cửa của các ngươi. Và lời hứa (của TA) chắc chắn phải được thể hiện.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

فاذا جاء وعدا اولھما بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید فحاسوا خلل الدیار وکان وعدا مفعولا (71 : 5) ” آخر کار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا ، تو اے بنی اسرائیل ، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اتھائے جو نہایت زور آور تجھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا “۔ یہ ان کی پہلی سرکشی تھی۔ ان لوگوں نے بیت المقدس میں پڑتی ترقی اور سر بلندی حاصل کی۔ ان کے پاس حکومت اور قوت جمع ہوگئی ، جس پر انہوں نے فساد شروع کردیا۔ اللہ انے ان پر ایک دوسری زور آور اور صاحب قوت قوم کو مسلط کردیا۔ ان لوگوں کی گرفت مضبوط تھی۔ انہوں نے تمام علاقوں کو اپنے لئے حلال قرار دے دیا اور صبح و شامل حملہ آور ہوتے رہے اور جو کچھ ان کے سامنے آتا اسے تاخت و تاراج کرتے رہے ۔ اور وہ کسی کام کے کر گزرنے میں کوئی باک اور ڈر محسوس ہی نہ کرتے تھے۔

وکان وعدا مفعولا (71 : 5) ” یہ اللہ کا ایسا وعدہ تھا جس نے پورا ہو کر ہی رہنا تھا “۔ کیونکہ اللہ کے وعدے اور فیصلے میں نہ تخلف ممکن ہے اور نہ اللہ کا کوئی فیصلہ جھوٹا ہوسکتا ہے۔

جب بنی اسرائیل نے مغلوبیت ، ذلت اور غلامی کا مزہ چکھا ، تو انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور انہوں نے اپنے حالات کو درست کیا ، تو ان پر جو عذاب مسلط کیا گیا تھا اس سے انکی گلوخلاصی ہوئی ، کیونکہ فاتحوں کے اندر بھی اسی طرح کا فساد پیدا ہوگیا۔ ان کو بھی اپنی قوت پر گھمنڈ ہوگیا ، انہوں نے بھی زمین میں فساد پیدا کردیا تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان مغلوبین کو منظم کرکے ان حملہ آوروں پر غالب کردیا اور اب بنی اسرائیل کے مستضعفین دوبارہ غالب آگئے۔