Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:51

17:51
او خلقا مما يكبر في صدوركم فسيقولون من يعيدنا قل الذي فطركم اول مرة فسينغضون اليك رءوسهم ويقولون متى هو قل عسى ان يكون قريبا ٥١
أَوْ خَلْقًۭا مِّمَّا يَكْبُرُ فِى صُدُورِكُمْ ۚ فَسَيَقُولُونَ مَن يُعِيدُنَا ۖ قُلِ ٱلَّذِى فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ ۚ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَ ۖ قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَرِيبًۭا ٥١
أَوۡ
خَلۡقٗا
مِّمَّا
يَكۡبُرُ
فِي
صُدُورِكُمۡۚ
فَسَيَقُولُونَ
مَن
يُعِيدُنَاۖ
قُلِ
ٱلَّذِي
فَطَرَكُمۡ
أَوَّلَ
مَرَّةٖۚ
فَسَيُنۡغِضُونَ
إِلَيۡكَ
رُءُوسَهُمۡ
وَيَقُولُونَ
مَتَىٰ
هُوَۖ
قُلۡ
عَسَىٰٓ
أَن
يَكُونَ
قَرِيبٗا
٥١
またあなたがたの胸の中で考えられるものでも。」その時,「誰がわたしたちを甦らせるのでしょうか。」と言う。言ってやるがいい。「最初にあなたがたを創られた方である。」それでかれらはあなたに向って頭を振り,「それは何時でしょうか。」と言う。言ってやるがいい。「それは恐らく近いであろう。

— Ryoichi Mita

“Hoặc trở thành bất cứ vật thể nào mà trong lòng của các ngươi cho là lớn nhất (thì chắc chắn cũng sẽ được dựng cho sống lại.” Rồi họ sẽ lại bảo: “Ai sẽ làm chúng tôi sống lại?” Ngươi hãy bảo họ: “Chính Đấng đã tạo hóa các người ban đầu (từ cái không là gì sẽ làm các người sống lại).” Rồi họ sẽ lắc đầu (tỏ vẻ ngao ngán) với Ngươi và hỏi: “Vậy khi nào điều đó xảy ra?” Ngươi hãy bảo họ: “Ta e rằng điều đó rất gần kề.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

فسیقولون من یعیدنا (71 : 15) ” وہ ضرور پوچھیں گے کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا لائے گا ؟ “ یعنی جب ہم مٹی ہوگئے ، بوسیدہ ہدیاں ہوگئیں ، تو کون ہے وہ جو ہمیں دوبارہ حیات دے گا۔ یا جب ہم پتھر اور لوہا بن گئے تو پھر کون حیات دے گا ؟

قل الذین فطرکم اول مرۃ (81 : 15) ” کہہ دو ، وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا “۔ ان کے سوال کا یہ نہایت ہی سادی اور صاف اور دل لگتا جواب ہے۔ کیونکہ جس ذات سے پہلی مرتبہ ان کو زندگی دی وہ دوبارہ بھی دے سکتا ہے لیکن وہ اس سادہ جواب سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ اطمینان ان کو ہوتا ہے۔

فسیتغضون الیک رء وسھم (71 : 15) ” وہ سر ہلا کر پوچھیں گے “۔ یعنی سر کو اوپر نیچے کر کے سوالیہ انداز اختیار کریں گے ، یہ حرکت وہ اس لئے کریں گے کہ وہ اس بات کو بعید از امکان سمجھتے ہیں یا غرور کے طور پر سر ہلائیں گے۔

و یقولون متی ھو (71 : 15) ” اچھا تو یہ ہوگا کب ؟ “ یہ بھی وہ نہایت ہی لاپرواہی سے وقوع قیامت کو بعید از امکان سمجھتے ہوئے کہیں گے۔

قل عسی ان یکون قریبا (71 : 15) ” آپ جواب دیں ، کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو “۔ وقوع قیامت کے وقت کا علم تو رسول اللہ ﷺ کو بھی نہیں دیا گیا لیکن شاید یہ وقت ان لوگوں کے گمان اور ظن وتخمین سے قریب تر ہو۔ مناسب تو یہی ہے کہ وہ اس کے وقع سے ڈریں کیونکہ یہ اس حال میں واقع ہوگا کہ لوگ غفلت میں ہوں گے۔ تکذیب کر رہے ہوں گے ، مذاق کر رہے ہوں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی۔

اور قرآن اپنے مخصوص انداز کے مطابق اچانک قیامت کے مناظر کا بیان شروع کردیتا ہے۔