Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:60

17:60
واذ قلنا لك ان ربك احاط بالناس وما جعلنا الرويا التي اريناك الا فتنة للناس والشجرة الملعونة في القران ونخوفهم فما يزيدهم الا طغيانا كبيرا ٦٠
وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِٱلنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا ٱلرُّءْيَا ٱلَّتِىٓ أَرَيْنَـٰكَ إِلَّا فِتْنَةًۭ لِّلنَّاسِ وَٱلشَّجَرَةَ ٱلْمَلْعُونَةَ فِى ٱلْقُرْءَانِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَـٰنًۭا كَبِيرًۭا ٦٠
وَإِذۡ
قُلۡنَا
لَكَ
إِنَّ
رَبَّكَ
أَحَاطَ
بِٱلنَّاسِۚ
وَمَا
جَعَلۡنَا
ٱلرُّءۡيَا
ٱلَّتِيٓ
أَرَيۡنَٰكَ
إِلَّا
فِتۡنَةٗ
لِّلنَّاسِ
وَٱلشَّجَرَةَ
ٱلۡمَلۡعُونَةَ
فِي
ٱلۡقُرۡءَانِۚ
وَنُخَوِّفُهُمۡ
فَمَا
يَزِيدُهُمۡ
إِلَّا
طُغۡيَٰنٗا
كَبِيرٗا
٦٠
われが以前あなたに向かって,「あなたの主は本当に人間を取り囲まれる。」と言った時を思いなさい。われがあなたに見せたものは,人びとに対する一つの試みに過ぎなかった。またクルアーンの中で呪われたあの木も(そうである)。われは畏れ(や警告)を与えるのだが,かれらは只大逆を増すばかりである。

— Ryoichi Mita

(Ngươi, hỡi Thiên Sứ Muhammad, hãy nhớ lại) việc TA đã nói với Ngươi rằng Thượng Đế của Ngươi đã thâu tóm toàn bộ nhân loại (trong tay Ngài), việc TA đã cho Ngươi nhìn thấy những điều xảy ra (trong đêm Isra’ và Me’raj) cũng như việc nhắc đến loại cây đáng nguyền rủa trong Qur’an (Zaqqum), (tất cả) đều chỉ nhằm mục đích thử thách nhân loại (xem ai tin và ai không tin). TA muốn làm cho họ sợ, tuy nhiên, nó không thêm thắt được gì cho họ ngoại trừ sự ngông cuồng quá mức.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

واقعہ اسرا کے بعد بعض وہ لوگ جو حضور اکرم ﷺ پر ایمان لاچکے تھے ، مرتد ہوگئے اور دوسرے اہل ایمان اس واقعہ کع سن کر مزید ثابت قد ہوگئے اور ان کے یقین میں ضافہ ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات اللہ نے اپنے بندے کو جو کچھ دکھایا ، وہ لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بنا اور یہ اہل ایمان کے لئے آزمائش تھی۔ ” اللہ نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کا یہ وعدہ تھا کہ لوگ آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کی رسائی آپ تک نہ ہوسکے گی۔

حضور اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ ان کی رسائی ان تک نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ کو سچے خواب میں یہ بات من عند اللہ بتا دی گئی تھی اور سفرا سرا میں حضور اکرم ﷺ کو جو باتیں بتائی گئیں ان میں سے ایک درخت زقوم کے بارے میں تھی کہ یہ جہنمیوں کی خوراک ہوگی اور ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے اس کی بھی تکذیب کی اور ابوجہل نے مذاق کے طور پر کہا مجھے کچھ اور مکھن دے دو ، جب دیا گیا تو وہ کھجور کے ساھت مکھن ملا کر کھاتا اور کہنا جاتا۔ “ کھائو اس زقوم کو کہ میں اس کے سوا کسی اور زقوم کو نہیں جانتا “۔

اگر حضور اکرم ﷺ کو خارق عادت معجزات بھی دے دئیے جاتے تو بھی وہ اس قوم پر اثر انداز نہ ہوتے ، جس طرح انبیائے سابقین کے حق میں آنے والے معجزات اور آیات لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئے۔ جس طرح معجزہ اسرا ومعراج اور زقوم کے درخت سے ڈراوے نے ان کو ہدایت نہ بخشی اور وہ مزید سرکشی اختیار کرتے رہے اسی طرح دوسرے معجزات اگر صاد ربھی ہوجاتے تو لوگوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوتا۔

اللہ نے عذاب الٰہی کے ذریعہ امت محمدیہ کی ہلاکت لکھی ہوئی نہ تھی ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو ایسا خارق عادت معجزہ نہیں دیا ، کیونکہ اللہ کا اصول یہ تھا کہ اگر پھر بھی کوئی تکذیب کرے تو اسے ہلاک کردیا جائے۔ رہے قریش تو ان کو اللہ نے مہلت دی اور ان کو قوم نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط اور قوم شعیب (علیہم السلام) کی طرح جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینا ، کیونکہ قریش کے مکذبین میں سے پیش تر لوگ بعد میں ایمان لائے اور وہ اسلام کے نامور سپای بنے۔ اور ان ہی میں سے بعض لوگ نہایت ہی سچے مسلمانوں میں شمار ہوئے اور قرآن کریم ، ایک کھلی کتاب کے طور پر محمد ﷺ کے لئے ایک معجزہ ہے۔ اور آج بھی اس پر بیشمار ایسے لوگ ایمان لاتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا عہد دیکھا ہی نہیں۔ ہزار ہا افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے جنہوں نے قرآن مجید کو پڑھایا ایسے لوگوں کے شاگرد اور ساتھی اور رفیق بنے جنہوں نے قرآن مجید پڑھا اور سمجھا۔ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ، قیامت تک ، یہ ایک کھلی کتاب ہوگا اور مستقبل کے پردہ غیب کے پیچھے ہزار ہو لوگ ایسے ہیں جو اس کو پڑھ کر ہدایت لیں گے اور ان میں ایسے لوگ بھی آئیں گے جو نہایت ہی پختہ مومن ، نہایت ہی صالح ، اسلام کے لئے نہایت ہی مفید اور متقی ہوں گے۔

وہ سچا خواب جو رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا اور اس خواب کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو جو علوم عطا ہوئے اور جو ملعون درخت رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا جو شیاطین کے متبعین کی خوراک ہوگا۔ اس کے بعد اسی مناسبت سے ابلیس معلون کی بحث آتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس شیطان نے بنی آدمی کو کس طرح چیلنج دیا۔