Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:69

17:69
ام امنتم ان يعيدكم فيه تارة اخرى فيرسل عليكم قاصفا من الريح فيغرقكم بما كفرتم ثم لا تجدوا لكم علينا به تبيعا ٦٩
أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًۭا مِّنَ ٱلرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِۦ تَبِيعًۭا ٦٩
أَمۡ
أَمِنتُمۡ
أَن
يُعِيدَكُمۡ
فِيهِ
تَارَةً
أُخۡرَىٰ
فَيُرۡسِلَ
عَلَيۡكُمۡ
قَاصِفٗا
مِّنَ
ٱلرِّيحِ
فَيُغۡرِقَكُم
بِمَا
كَفَرۡتُمۡ
ثُمَّ
لَا
تَجِدُواْ
لَكُمۡ
عَلَيۡنَا
بِهِۦ
تَبِيعٗا
٦٩
または,かれが再びあなたがたをそれ(海上)に戻らせ,あなたがたが恩を忘れたために風を起こし暴風を送り,溺れさせないと安心出来るのか。その時あなたがたは,われに反抗する救助者を発見することは出来ないのである。

— Ryoichi Mita

Hay các ngươi tưởng mình sẽ an toàn khỏi việc Ngài đẩy các ngươi trở lại (biển khơi) lần nữa rồi Ngài gởi cơn giông tố đến nhấn chìm các ngươi bởi sự vong ơn của các ngươi; rồi các ngươi không tìm thấy ai chống trả được TA?

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 17:68 đến 17:69

انسان جہاں ہوا اور جس دور میں ، جس لمحے میں ہو ، وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس طرح خشکی میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، اسی طرح سمندر میں بھی وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں۔ تو وہ کس طرح امن میں ہوں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی زلزلے میں ، زمین دھنس میں جائیں ، کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے یا دوسری کوئی آفت سماوی ان پر ٹوٹ پڑے۔ اگر کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے تو ان پر گرم لاوے ، گرم پانی ، کیچڑ اور پتھروں کا سیلاب آجائے ، اور وہ اس طرح ہلاکت کا شکار ہوجائیں کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے لئے ناصر و مددگار نہ رہے۔ کوئی ان کی حمایت نہ کرسکے اور کوئی انہیں بچا نہ سکے۔

پھر کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ سفر پر نہ جائیں یا اللہ انہی نہ بھیج دے۔ اور دوبارہ ان کو ناقابل کنٹرول موجوں کے حوالے کردے۔ یا ایسی ہوائیں ان پر آجائیں کہ کشتیوں اور جہازوں کو توڑ پھوڑ دیں اور ان کو ان کے کفر اور ناشکری کی وجہ سے غرق کردے اور اگر اللہ ایسا کردے تو اس سے پھر کون ہے پوچھنے والا۔ کیا یہ لوگ کوئی داد رسی کی جگہ پات ہیں ؟

خبردار ، یہ صریح غفلت ہے کہ لوگ اپنے رب سے منہ پھیر لیں اور پھر مامون ہو کر بیٹھ جائیں کہ ان پر کوئی عذاب نہ آئے گا۔ حالانکہ شدید ترین مصائب میں وہ بتقاضائے فطرت رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن نارمل حالات میں وہ دوبارہ غفلت کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ گویا جو شدت اور تکلیف گزری وہ آخری تھی اور دوبارہ کوئی تکلیف ان پر آنے والی نہیں ہے۔ اور پھر خدا کا کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔

انسان کے یہ لچھن اس حقیقت کے ہوتے ہوئے کہ اسے اللہ نے اپنی مخلوق کے ایک بڑے حصے پر فضیلت دی ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی تخلیق ایک بہترین ہیبت پر کی گئی۔ اس کا بڑا خمیر مٹی سے تیار کیا گیا اور اس کے اندر اللہ نے اپنی روح حیات پھونک دی۔ یوں اس مخلوق کے اندر مادی اور روحانی قوتیں ، زمنی اور آسمانی قوتیں جمع ہوگئی یعنی حضرت انسان کے اس ہیکل میں۔

پھر اللہ نے اس کے اندر عجیب عجیب فطری قوتیں ودیعت فرمائی ہیں۔ اور ان قوتوں ہی کی وجہ سے وہ خلافت فی الارض کے منصب کا اہل قرار پایا۔ وہ اس زمین میں تبدیلیاں کرتا ہے ، اس میں تصرفات کرتا ہے ، اس کو نشوونما دیتا ہے اور نئی نئی ایجادات کرتا ہے۔ اس مین دی ترکیب کرتا ہے اور مرکبات کا تجزیہ کرتا ہے اور اندگی کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔

پھر اس پوری کائنات نے ، اس انسان کا استقبال جس انداز میں کیا ، وہ بھی اس کی تکریم خاص ہے۔ تمام ملائکہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اسے سجدہ کریں۔ یوں ایک کائناتی محفل اور سماوی تقریب میں اسے یہ اعزاز عملاً بخشا گیا رسمی طور پر ۔

پھر اس انسان کی تکریم اور عزت افزائی کا اعلان اللہ نے اپنی اس آخری کتاب میں کیا جو اللہ کی آخری کتاب ہے اور ابدالا باد تک رہنے والی ہے ، یعنی قران کریم میں۔