Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:77

17:77
سنة من قد ارسلنا قبلك من رسلنا ولا تجد لسنتنا تحويلا ٧٧
سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا ٧٧
سُنَّةَ
مَن
قَدۡ
أَرۡسَلۡنَا
قَبۡلَكَ
مِن
رُّسُلِنَاۖ
وَلَا
تَجِدُ
لِسُنَّتِنَا
تَحۡوِيلًا
٧٧
あなた以前に遺わした使徒たちに対する(わが)慣行は(皆,こう)であった。あなたはわが慣行に変化を見い出すことは出来ない。

— Ryoichi Mita

(Đó là) đường lối1 (mà TA) đã quy định cho các vị Thiên Sứ trong số các vị Thiên Sứ của TA được TA cử phái đến trước Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) và Ngươi sẽ không tìm thấy sự thay đổi trong đường lối của TA.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

سنۃ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا ولا تحد لسنتنا تحویلا (71 : 77) ” یہ ہمارا مستقبل طریق کار ہے جو ان سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پائو گے “۔

اللہ تعالیٰ نے یہ اٹل قانون بنایا ہے کہ جو قوم رسول کو ملک بدر کردیتی ہے اللہ اے نیست و نابود کردیتا ہے۔ کیونکہ رسولوں کا ملک بدر کرنا اس قدر بڑا جرم ہے کہ اسے سرزنش کے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ اللہ کی اس کائنات کو اس کے اٹل قوانیں اور سنن چلا رہے ہیں اور لوگوں کے انفرادی اعمال کا اس میں کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ کائنات محض اتفاقات کے مطابق نہیں چل رہی ہے کہ کچھ واقعات ہوجائیں اور گزر جائیں اور یہ کائنات یونہی چل رہی ہو۔ بلکہ اس کائنات کو اللہ کے اٹل قوانین کنٹرول کرتے ہیں۔ چونکہ عالم بالا میں ، بعض حکمتوں کی بنا پر یہ طے تھا کہ قریش کو بلاک اور نیست و نابود نہیں کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو طبیعی خوارق عادت معجزات نہیں دیے اور نہ قریش کو ہمت دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو زبردستی یا حالات سے مجبور کر کے مکہ سے نکال دیں بلکہ بذریعہ وحی حکم دیا کہ آپ اس آبادی کو خود ہی چھوڑ دیں۔ یوں اللہ کی سنت جاری وساری رہی۔

اس کے بعد نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ سے لو لگائے رکھیں ، اللہ سے نصرت اور معاونت طلب کرتے رہے اور جس راہ کو آپ ﷺ نے اپنایا ہے اس پر چلتے رہیں۔ حق کا بول بالا ہوگا اور باطل مغلوب اور زائل ہوگا۔ ان شاء اللہ۔