Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:8

17:8
عسى ربكم ان يرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا ٨
عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَـٰفِرِينَ حَصِيرًا ٨
عَسَىٰ
رَبُّكُمۡ
أَن
يَرۡحَمَكُمۡۚ
وَإِنۡ
عُدتُّمۡ
عُدۡنَاۚ
وَجَعَلۡنَا
جَهَنَّمَ
لِلۡكَٰفِرِينَ
حَصِيرًا
٨
或るいは主もあなたがたに情けを与えるであろう。だがあなたがたが(罪を)繰り返すならば,われも(懲罰を)繰り返すであろう。われは不信者のために,地獄を牢獄として設けた。

— Ryoichi Mita

Mong rằng Thượng Đế của các ngươi (dân Israel) đoái hoài đến các ngươi (khi các ngươi biết ăn năn và sám hối). Còn nếu các ngươi (ngoan cố) tái phạm (lần ba hoặc hơn nữa) thì TA (Allah) sẽ vẫn tiếp tục (trừng phạt các ngươi) và TA đã chuẩn bị sẵn Ngục Lửa để nhốt những kẻ vô đức tin.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

عسبی ربکم ان یرحمکم (71 : 8) ” ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر حم کرے “۔ اگر تم اپنی تاریخ سے عبرت حاصل کرو۔

لیکن یاد رکھو اگر تم نے سرکشی کا یہ عمل پھر دہرایا تو اس کے نتائج پھر ظاہر ہوں گے۔ اللہ کی سنت جاری وساری ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

وان عدتم عدنا (71 : 8) ” لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے “۔ ہاں انہوں نے پھر فساد کیا ، اللہ نے ان پر مسلمانوں کو مسلط کردیا اور ان کو جزیرۃ العرب سے خارج ۔۔ کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے پوری دنیا میں فساد کیا تو اللہ نے ان پر اپنے اور بندوں کو مسلط کردیا اور ہٹلر نے ان کی گوشمالی کی۔ اور دور حاضر ہوں انہوں نے پھر فساد اور سرکشی شروع کردی ہے۔ اسرائیل کی شکل میں منطم ہو کر انہوں نے پورے شرق اوسط کو مصائب میں مبتلا کردیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان پر اللہ کسی ایسی قوم کو مسلط کردے جو ان کو ان کی سرکشی کی پوری سزا دے تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پورا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ قطعی ہے کہ اگر تم نے پھر ایسا کیا تو ہم ۔۔ ایسا کریں گے۔ اور وہ وقت دور نہیں کہ بنی اسرائیل اپنے کیے کا مزہ چکھ لیں۔

اب یہاں سیاق کلام اہل کفر کے اخروی انجام کی طرف ہوجاتا ہے کیونکہ اکثر مقصد ۔۔ کافر ہی ہوتے ہیں ان کے درمیان یک رنگی ہوتی ہے۔

وجعلنا جھنم لککفرین حصیرا (71 : 8) ” اور کافروں کے لئے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا دیا ہے “۔ یہ جہنم اس طرح ان کو گھیر لے گی کہ ان میں سے کوئی اسے بچ کر نہ نکل سکے گا۔ یہ جہنم اس قدر وسیع ہوگی کہ سب اس میں سماجائیں گے۔

سبق کے اس حصے میں تاریخ بنی اسرائیل کا یہ پہلو بیان ہوا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی کہ یہ لوگ اس سے ہدایت لیں۔ لیکن انہوں نے ہدایت نہ لی بلکہ گمراہ ہوئے اور اللہ کی ہلاکت نے ان کو آلیا۔ اب سیاق کلام قرآن کریم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کہ اس طرح یہ قرآن بھی نہایت ہی ٹھوس تعلیمات پیش کر رہا ہے۔