Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:86

17:86
ولين شينا لنذهبن بالذي اوحينا اليك ثم لا تجد لك به علينا وكيلا ٨٦
وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَيْنَا وَكِيلًا ٨٦
وَلَئِن
شِئۡنَا
لَنَذۡهَبَنَّ
بِٱلَّذِيٓ
أَوۡحَيۡنَآ
إِلَيۡكَ
ثُمَّ
لَا
تَجِدُ
لَكَ
بِهِۦ
عَلَيۡنَا
وَكِيلًا
٨٦
かれがもし望むならば,あなたに啓示したものを取り上げることも出来る。その時それに就いて,われに逆らってあなたを弁護する者を見出さないであろう。

— Ryoichi Mita

Nếu muốn, TA (Allah) lấy đi hết những gì đã thiên khải cho Ngươi (Thiên Sứ Muhammad), rồi Ngươi sẽ không tìm được một vị bảo hộ nào giúp Ngươi ngăn cản TA (về điều này).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 17:86 đến 17:89
قرآن اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے زبردست احسان اور عظیم الشان نعمت کو بیان فرما رہا ہے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر انعام کی ہے یعنی آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی جس میں کہیں سے بھی کسی وقت باطل کی آمیزش ناممکن ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آخر زمانے میں ایک سرخ ہوا چلے گی شام کی طرف سے یہ اٹھے گی اس وقت قرآن کے ورقوں میں سے اور حافظوں کے دلوں میں سے قرآن سلب ہو جائے گا، ایک حرف بھی باقی نہیں رہے گا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔

پھر اپنا فضل و کرم اور احسان بیان کرکے فرماتا ہے کہ اس قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوق اس کے مقابلے سے عاجز ہے۔ کسی کے بس میں اس جیسا کلام نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ بے مثل بے نظیر بے شریک ہے اسی طرح اس کا کلام مثال سے نظیر سے اپنے جیسے سے پاک ہے۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے وارد کیا ہے کہ یہودی آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم بھی اسی جیسا کلام بنا لاتے ہیں پس یہ آیت اتری لیکن ہمیں اس کے ماننے میں تامل ہے، اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور اس کا کل بیان قریشیوں سے ہے وہی مخاطب ہیں اور یہود کے ساتھ مکے میں آپ کا اجتماع نہیں ہوا مدینے میں ان سے میل ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4793

ہم نے اس پاک کتاب میں ہر قسم کی دلیلیں بیان فرما کر حق کو واضح کر دیا ہے اور ہر بات کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا ہے، باوجود اس کے بھی اکثر لوگ حق کی مخالفت کر رہے ہیں اور حق کو دھکے دے رہے ہیں اور اللہ کی ناشکری میں لگے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر4794