Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Isra 17:98

17:98
ذالك جزاوهم بانهم كفروا باياتنا وقالوا ااذا كنا عظاما ورفاتا اانا لمبعوثون خلقا جديدا ٩٨
ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُم بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا عِظَـٰمًۭا وَرُفَـٰتًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًۭا جَدِيدًا ٩٨
ذَٰلِكَ
جَزَآؤُهُم
بِأَنَّهُمۡ
كَفَرُواْ
بِـَٔايَٰتِنَا
وَقَالُوٓاْ
أَءِذَا
كُنَّا
عِظَٰمٗا
وَرُفَٰتًا
أَءِنَّا
لَمَبۡعُوثُونَ
خَلۡقٗا
جَدِيدًا
٩٨
これはかれらが,わが印を信じない応報である。かれらはまた言う。「わたしたちが骨と砕けた土になった後,本当に新たな生き者として甦るのでしょうか。」

— Ryoichi Mita

Đó là sự trừng phạt dành cho họ bởi họ đã phủ nhận các dấu hiệu của TA (Allah) và bảo: “Lẽ nào sau khi bọn ta trở thành xương khô và đã rã mục thì bọn ta lại được cho sống trở lại lần nữa ư?!”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ذلک جزا اوھم بانھم کفروا بایتنا (71 : 89) ” یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا “۔ انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا۔ اور وقوع قیامت کو مستبعد سمجھتا۔

وقالواء ………جدیدا (71 : 89) ” اور کہا کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اتھا کر کھڑا کیا جائے گا “۔

سیاق کلام میں اس منظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا وہ آج موجود ہے۔ اور وہ دنیا جس میں وہ رہ رہے تھے اسے گویا لپیٹ لیا گیا ہے اور وہ ماضی بعید بن گئی ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات کو نہایت ہی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور منظر یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ ایک زندہ واقعہ ہے اس طرح واقعات کا اثر دلوں پر بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ اور انسانی شعور پر یہ واقعات اپنا پورا اثر التے ہیں۔

اب قرآن مجید حقیقی صورت حالت ان کے سامنے رکھتا ہے اور انداز سخن بھی واقعی بن جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ تم اس حقیقت کو دیکھ رہے ہو مگر غفلت سے کام لے رہے ہو۔