Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Jathiyah 45:23

45:23
افرايت من اتخذ الاهه هواه واضله الله على علم وختم على سمعه وقلبه وجعل على بصره غشاوة فمن يهديه من بعد الله افلا تذكرون ٢٣
أَفَرَءَيْتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَـٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍۢ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِۦ وَقَلْبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَـٰوَةًۭ فَمَن يَهْدِيهِ مِنۢ بَعْدِ ٱللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٣
أَفَرَءَيۡتَ
مَنِ
ٱتَّخَذَ
إِلَٰهَهُۥ
هَوَىٰهُ
وَأَضَلَّهُ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
عِلۡمٖ
وَخَتَمَ
عَلَىٰ
سَمۡعِهِۦ
وَقَلۡبِهِۦ
وَجَعَلَ
عَلَىٰ
بَصَرِهِۦ
غِشَٰوَةٗ
فَمَن
يَهۡدِيهِ
مِنۢ
بَعۡدِ
ٱللَّهِۚ
أَفَلَا
تَذَكَّرُونَ
٢٣
あなたがたは自分の虚しい願望を,神様として崇めている者を見ないか。アッラーは御承知のうえでかれを迷うに任せ,耳や心を封じ,目を覆われた。アッラーに(見放された)後,誰がかれを導けよう。あなたがたは,これでも訓戒を受け入れないのか。

— Ryoichi Mita

Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) hãy nhìn xem kẻ đã lấy dục vọng của bản thân làm thần linh của y! (Quả thật), Allah đã để y lầm lạc, Ngài đã niêm kín thính giác và quả tim của y và Ngài đã lấy tấm màn che mắt của y lại. Vậy, sau khi y chối bỏ Allah thì ai sẽ hướng dẫn y? Lẽ nào các ngươi không lưu tâm?

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت نمبر 23

انسان جب اسلام کا عظیم اصول اتباع شریعت ترک کرد یتا ہے تو پھر اس کی جو حالت ہوتی ہے قرآن کریم اس خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ یہ شخص اپنی بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہے۔ یہ اپنی خواہشات کے سامنے سجدہ ریز ہے اور ان کا مطیع فرمان ہے۔ اس کے تصورات ، اس کے احکام ، اس کی سوچ اور اس کی حرکات ، اس کی خواہشات کے زاویہ سے ہوتی ہیں۔ یہ ان کو اس طرح پوجتا ہے جس طرح کوئی کسی بت کو پوجتا ہے۔ یہ خواہشات کے اشارات کے پیچھے دوڑتا ہے۔ قرآن ایسے لوگوں کی یہ تصویر کشی بڑی ناپسندیدگی سے کرتا ہے۔

افر ءیت من اتخذ الھہ ھوہ (45 : 23) “ پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ”۔ کیا تم نے ایسے شخص کو دیکھا ہے ؟ یہ شخص ایک ایسی عجیب مخلوق ہے جو تماشا کے قابل ہے کہ اس کا تماشا دیکھا جائے۔ یہ شخص اللہ کے سامنے اپنے آپ کو ضلالت کا مستحق ثابت کردیتا ہے۔ اب اللہ ایسے شخص پر ہدایت کی رحمت نازل ہی نہیں کرتا ۔ کیونکہ اس کے دل میں ہدایت کی جگہ ہی باقی نہیں رہی ہے اس لیے کہ وہ اپنی خواہش کو بروقت پوجتا رہتا ہے۔

واضلہ اللہ علی علم ( 45 : 23) “ اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا ہے ” ۔ اس کے دو معنی ہیں : ایک یہ کہ اللہ نے علم کے مطابق جانتے ہوئے اسے ضلالت میں پھینک دیا ۔ اس لیے کہ یہ ضلالت کا مستحق ہوگیا تھا۔ یا یہ کہ وہ اپنے طور پر عالم ہونے کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ اور اس کے علم و معرفت نے اس کو اس بات سے نہ روکا کہ وہ اپنی خواہشات کو الٰہ بنائے۔ یوں پھر اللہ نے اسے بھی ڈھیل دے دی اور گمراہی میں پھینک دیا۔

وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ (45 : 23) “ اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ”۔ لہٰذا وہ تمام روشن دان بند ہوگئے جن سے روشنی اندر آتی تھی اور وہ مدرکات بےکار ہوگئے جن کے ذریعہ سے ہدایت کسی شخص کے دل و دماغ میں داخل ہو سکتی تھی۔ اور انسان نے خواہشات نفسانیہ کو اس طرح قبول کرنا شروع کردیا کہ حصول ہدایت کے تمام راستے مسدود ہوگئے۔

فمن یھدیہ من بعد اللہ (45 : 23) “ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے ” ۔ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اللہ کے سوا اور تو کوئی کسی کی ہدایت اور ضلالت کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہ تو اللہ کا خصوصی اختیار ہے اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اللہ کے مختار رسولوں کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے دیں۔

افلا تذکرون (45 : 23) “ کیا تم لوگ سبق نہیں لیتے ”۔ جس نے سبق لیا وہ ہوشمند رہا اور متنبہ ہوگیا۔ اور ہوائے نفس کے پھندے سے آزاد ہوگیا اور ایک واضح اور مستقل منہاج پر گامزن ہوگیا جس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوئے۔