Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Jinn 72:12

72:12
وانا ظننا ان لن نعجز الله في الارض ولن نعجزه هربا ١٢
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن نُّعْجِزَ ٱللَّهَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُۥ هَرَبًۭا ١٢
وَأَنَّا
ظَنَنَّآ
أَن
لَّن
نُّعۡجِزَ
ٱللَّهَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
وَلَن
نُّعۡجِزَهُۥ
هَرَبٗا
١٢
だがわたしたちは,地上においてアッラーを出し抜くことは出来ないし,また逃避して,かれを失敗させることも出来ないと思っている。

— Ryoichi Mita

“Quả thật, chúng tôi tin chắc rằng chúng tôi sẽ không bao giờ có thể làm cho Allah thất bại trên trái đất và chúng tôi sẽ không bao giờ có thể trốn thoát khỏi Ngài.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وانا ............................ ھربا (27 : 21) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں “۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کو اس زمین میں ان پر پوری پوری قدرت حاصل ہے۔ یہ بھی وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے بھاگ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بندہ رب کے سامنے بہت ضعیف ہے۔ اور تمام مخلوق کا مقابلہ نہیں کرسکتی یعنی اسلام لانے سے پہلے بھی یہ گروہ اللہ کی قدرت اقتدار اور غلبے کا شعور اٹھتا تھا۔

یہ تھے وہ جن ، جن کے ہاں بعض انسان دور جاہلیت میں پناہ لیتے تھے۔ اور مشرکین عرب تو اپنی حاجات میں جنوں کو پکارتے تھے اور انہوں نے ان جنوں اور رب تعالیٰ کے درمیان رشتہ داری کا عقیدہ بھی تصنیف کرلیا تھا۔ جبکہ یہ جنات اپنی عاجزی ، اور اللہ کی قدرت کا اقرار کرتے ہیں۔ یہ اپنی ضعیفی اور اللہ کے اقتدار کی بات کرتے ہیں۔ یہ اپنی عاجزی اور اللہ کی قہاری وجباری کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہ بات وہ صرف اپنی قوم سے ہی نہیں کہتے بلکہ مشرکین مکہ سے بھی کہتے تھے کہ حقیقی قوت صرف اللہ کے پاس ہے جو اس کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔