Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Kahf 18:100

18:100
وعرضنا جهنم يوميذ للكافرين عرضا ١٠٠
وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْكَـٰفِرِينَ عَرْضًا ١٠٠
وَعَرَضۡنَا
جَهَنَّمَ
يَوۡمَئِذٖ
لِّلۡكَٰفِرِينَ
عَرۡضًا
١٠٠
その日われは,不信者たちに地獄を現わし,日の辺に見せる。

— Ryoichi Mita

Và vào Ngày hôm đó, TA sẽ phơi bày Hỏa Ngục cho những kẻ vô đức tin nhìn thấy tận mắt.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 18:99 đến 18:101

یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔

ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر طریقے سے کھڑے ہیں۔

پھر وہ کافر جنہوں نے اللہ کی یاد سے منہ موڑا اور جو اس طرح نظر آ رہے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں پر پردے ہیں اور شاید ان کے کانوں میں سننے کی قوت ہی نہیں ہے۔ ان پر جنم پیش ہوگی ۔ اب یہ لوگ جہنم سے اس طرح منہ نہ موڑ سکیں گے جس طرح یہ دنیا میں ہایت سے منہ موڑ رہے تھے۔ اب ان میں موڑنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اب ان کی آنکھوں کے اوپر سے پردے ہٹ جائیں گے اب وہ سرکشی اور اعراض کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے یعنی جزاء پوری کی پوری جزائ۔

قرآن کریم نے یہاں اس منظر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کے اعراض کی تصویر کو اور ان کے لئے جہنم کی تپیش کو ایک دوسرے کے بالمقبال پیش کیا ہے دونوں چیزیں عملاً حرکت کرتے ہوئے منظر کی صورت میں پیش کی گئی ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ہے اور اس تقابلی منظر کشی پر پھر تبصرہ ، نہایت ہی ختلخ اور حقارت آمیز تبصرہ یوں کیا جاتا ہے !