Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Kahf 18:15

18:15
هاولاء قومنا اتخذوا من دونه الهة لولا ياتون عليهم بسلطان بين فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا ١٥
هَـٰٓؤُلَآءِ قَوْمُنَا ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةًۭ ۖ لَّوْلَا يَأْتُونَ عَلَيْهِم بِسُلْطَـٰنٍۭ بَيِّنٍۢ ۖ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا ١٥
هَٰٓؤُلَآءِ
قَوۡمُنَا
ٱتَّخَذُواْ
مِن
دُونِهِۦٓ
ءَالِهَةٗۖ
لَّوۡلَا
يَأۡتُونَ
عَلَيۡهِم
بِسُلۡطَٰنِۭ
بَيِّنٖۖ
فَمَنۡ
أَظۡلَمُ
مِمَّنِ
ٱفۡتَرَىٰ
عَلَى
ٱللَّهِ
كَذِبٗا
١٥
これらわが同族の人びとは,かれを差し置いて神々を立てた。どうしてそれら(神々)は,かれらに対して一つの明白な権威も齎さないのであろうか。アッラーに就いて偽りを捏造するよりも,甚だしい不義を犯す者があろうか。」

— Ryoichi Mita

“Đám dân của bầy tôi, những người này, đã tôn thờ những thần linh khác ngoài Ngài nhưng họ không có bằng chứng rõ ràng nào (cho việc làm đó của họ). Bởi vậy còn ai sai quấy hơn những kẻ đã bịa đặt điều dối trá cho Allah?!”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ھولآء قومنا اتخذوا من دونہ الھۃ لولا یاتون علیھم بسلطن بین (81 : 51)

” یہ ہماری قوم تو رب کائنات کو چھوڑ کر دور سے خدا بنا بیٹھی ہے ، یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی بین دلیل کیوں نہیں لاتے۔ “

اسلامی نظریہ حیات میں یہ بات عقیدے کا حصہ ہے کہ انسان جو موقف اختیار کرے اس پر اس کے پاس دلیل بین ہو۔ ایسی دلیل ہو جو دل کو لگتی ہو ، اور عقل اسے تسلیم کرتی ہو ، اگر ایسا نہیں ہے تو وہ کذب اور افتراء ہے اور یہ چونکہ کذب علی اللہ ہے ، اس لئے یہ زیادہ گھنائونا جھوٹ ہے۔

فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً (81 : 51) ” آخر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ “

یہاں تک تو اسے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کا موقف واضح ، صریح اور دو ٹوک ہے ، اس میں کوئی تردد یا کوئی توقف نہیں ہے۔ یہ نوجوان ہیں ، جسمانی لحاظ سے بھی قوی ہیں ، ایمان میں بھی شدید ہیں اور قوم جس غلط راہ پر چل رہی ہے ، اس سے بھی انہیں سخت نفرت ہے۔

دو گروہوں کی راہیں مختلف ہوچکی ہیں ، ان کی زندگی کے طریقے ایک دوسرے سے جدا ہوچکے ہیں ، اب دونوں کے باہم ملنے کے لئے کوئی موقف نہیں ہے۔ ان دونوں کی زندگیاں ایک جگہ نہیں گزر سکتیں۔ لہٰذا صرف ایک راہ رہ جاتی ہے وہ یہ کہ یہ نوجوان اپنے نظریات کو لے کر ہجرت کر جائیں ، یہ اپنی قوم کی طرف رسول بنا کر نہ بھیجے گئے تھے تاکہ وہ اپنی قوم کا مقابلہ کریں۔ اپنے نظریات پر جم جائیں ، غلط نظریات کے مقابلے میں صحیح نظریات پیش کریں۔ ان کو دعوت دیں اور اس انجام تک پہنچیں جن تک رسول پہنچتے ہیں بلکہ وہ کچھ نوجوان تھے ، کافرانہ ماحول میں ان کو ایمان کی روشنی مل گئی تھی۔ اگر وہ ایسے ماحول میں اپنے عقائد کا اظہار کرتے ہیں تو اس معاشرے میں ان کا زندہ رہنا مشکل ہے۔ صورت حال یہ تھی کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ مقابلہ بھی نہ کرسکتے تھے ، خود قوم کی راہ پر بھی نہ جاسکتے تھے ، قوم کو اپنی راہ پر نہ لا سکتے تھے ، نہ وہ تقیہ کر کے ان کے غلط الہوں کی عبادت کرسکتے تھے اور نہ اپنی عبادت کو چھپا سکتے تھے بلکہ راجح بات یہ ہے کہ ان کے عقائد و نظریات کے بارے میں کافروں کو علم ہوچکا تھا۔ اس لئے ان کے لئے صرف ایک ہی راہ رہ گئی تھی کہ وہ اپنے دین اور نظریات کو لے کر بھاگ نکلیں اور شہر میں پر آسائش زندگی بسر کرنے کے بجائے کسی غار میں جا چھپیں۔ انہوں نے باہم مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا :