Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Kahf 18:16

18:16
واذ اعتزلتموهم وما يعبدون الا الله فاووا الى الكهف ينشر لكم ربكم من رحمته ويهيي لكم من امركم مرفقا ١٦
وَإِذِ ٱعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ فَأْوُۥٓا۟ إِلَى ٱلْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَيُهَيِّئْ لَكُم مِّنْ أَمْرِكُم مِّرْفَقًۭا ١٦
وَإِذِ
ٱعۡتَزَلۡتُمُوهُمۡ
وَمَا
يَعۡبُدُونَ
إِلَّا
ٱللَّهَ
فَأۡوُۥٓاْ
إِلَى
ٱلۡكَهۡفِ
يَنشُرۡ
لَكُمۡ
رَبُّكُم
مِّن
رَّحۡمَتِهِۦ
وَيُهَيِّئۡ
لَكُم
مِّنۡ
أَمۡرِكُم
مِّرۡفَقٗا
١٦
「そうだ,あなたがたがかれらから,またアッラー以外にかれらが崇拝する者からそれて, 洞窟に逃れれば,主はあなたがたの上に慈悲を現わされ,あなたがたのために,事態を安穏に処理なされよう。」

— Ryoichi Mita

(Nhóm thanh niên bảo nhau): “Và khi các anh rời bỏ họ và những thần linh mà họ thờ phượng ngoài Allah thì các anh hãy chạy đến hang núi mà ẩn náu rồi Thượng Đế của các anh sẽ thương xót các anh và sắp xếp vụ việc của các anh theo hướng dễ dàng và tốt đẹp.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

واذا اعتزلتموھم و مایعبدون الا اللہ فاو وآ الی الکھف ینشرلکم ربکم من رحمتہ ویھیمی لکم من امرکم مرفقاً (81 : 61) ” اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود ان غیر اللہ سے بےتعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو ، تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا امن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لئے سرو سامان مہیا کرے گا۔ “

یہاں حقیقی مومن دلوں کی اصل حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہ نوجوان اپنی قوم کو چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے ہیں۔ یہ اپنے علاقے کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ رہے ہیں ، گھروں اور کاروبار اور کرہ ارض اور اس دنیا کی زیب وزینت کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ رہے ہیں ، گھروں اور کاروبار اور کرہ ارض اور اس دنیا کی زیب وزینت کو چھوڑ رہے ہیں اور یہ لوگ کہاں پناہ لے رہے ہیں ؟ ایک کرخت پتھریلی جگہ اور تاریک غار میں۔ لیکن یہاں رحمت خداوندی ہے اور اس رحمت میں وہ خوش ہیں۔ اس تاریک غار میں انہیں اللہ کی رحمت سے رضا مندی نہایت وسیع نظر آتی ہے۔

ینشرلکم ربکم من رحمتہ (81 : 61) ” تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن پھیلا دے گا۔ “ ینشر کا لفظ کشادگی ، وسعت اور خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ تاریک غار ان کے لئے ایک کھلا میدان ہے اور کھلی فضا ہے۔ طویل و عریض میدان ہے اور اس میں رحمت خداوندی کی چھائوں ہے اور یہاں وہ نہایت ہی خوشحالی ، آرام اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ جب اللہ کی رحمت ہو تو نہایت ہی تنگ جگہ ایک وسیع میدان نظر آتی ہے اور ان کی اونچی اونچی دیواریں کر جاتی ہیں اور تنہائی اور وحشت کے غبار چھٹ جاتے ہیں۔ رحمت خداوندی شفقت اور خوشی اور سہولت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

یہ امر قابل غور ہے کہ اس ظاہری دنیا کی قدر وق یمت کیا ہے ؟ اور دنیاوی زندگی کی ان اقدار کی کیا قیمت جن سے لوگ اس زندگی میں متعارف ہوچکے ہیں ؟ اور ان کے عادی ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی دنیا ایک دوسری دنیا ہے۔ اس دنیا کے ساز و سامان کچھ اور ہیں۔ اس دنیا میں ایک مومن رحمٰن کے ساتھ ، انس و محبت کے ساتھ ، اللہ کے سایہ میں اللہ کی رضا مندی ، محبت اور اطمینان کے وسیع سائے میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ اب اس منظر سے پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو ایک دوسرا منظر ہمارے سامنے ہے۔ یہ نوجوان ہیں یہ اس غار میں نہایت ہی اطمینان سے گہری نیند میں ڈوبے ہوئے آرام کر رہے ہیں۔