Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Kahf 18:66

18:66
قال له موسى هل اتبعك على ان تعلمن مما علمت رشدا ٦٦
قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًۭا ٦٦
قَالَ
لَهُۥ
مُوسَىٰ
هَلۡ
أَتَّبِعُكَ
عَلَىٰٓ
أَن
تُعَلِّمَنِ
مِمَّا
عُلِّمۡتَ
رُشۡدٗا
٦٦
ムーサーはかれに,「あなたに師事させて下さい。あなたが授かっておられる正しい知識を,わたしに御教え下さい。」と言った。

— Ryoichi Mita

Musa nói với Y (Al-Khudhir): “Tôi có thể theo Ông để Ông dạy Tôi điều đúng đắn mà Ông đã được (Allah) chỉ dạy hay không?

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی احترام سے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا آپ ہمیں کچھ سکھائیں گے ؟ یعنی آپ کو اللہ نے جو علم دیا ہے اس میں سے کوئی راہنمائی اور دانشمندی ہمیں بھی سکھائیں گے۔ لیکن اس شخص کا علم وہ علم نہ تھا جو انسانوں کو سکھایا گیا ہے اور جس کے اسباب و نتائج معلمو اور قریب الفہم ہوتے ہیں بلکہ اس کے علم کا تعلق علم لدنی اور اس کائنات کے تکوینی انتظام کے ساتھ تھا۔ یہ اللہ کے غیبی امور کا ایک حصہ تھا۔ جو اس عبدصالح کو اللہ نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور حکمت کے تحت سکھایا ہوا تھا۔ اس لئے عبدصالح کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ اس کے تصرفات کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ تو رسول اور نبی ہیں ۔ خلاف شریعت کسی بات کو برداشت نہ کریں گے۔ کیونکہ یہ تصرفات بظاہر شریعت کے بھی خلاف ہوں گے اور عقلی طرز عمل کے بھی خلاف ہوں گے اور اس بات کی ضرورت ہوگی کہ ان کی تہہ میں جو تکوینی حکمت پوشیدہ تھی وہ بھی ان کو بتائی جائے۔ اگر اصل حقیقت نہ بتائی جائے تو یہ قابل اعتراض ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدصالح اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ تم صبر نہ کرسکو گے۔