Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Kahf 18:76

18:76
قال ان سالتك عن شيء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني عذرا ٧٦
قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَىْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصَـٰحِبْنِى ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّى عُذْرًۭا ٧٦
قَالَ
إِن
سَأَلۡتُكَ
عَن
شَيۡءِۭ
بَعۡدَهَا
فَلَا
تُصَٰحِبۡنِيۖ
قَدۡ
بَلَغۡتَ
مِن
لَّدُنِّي
عُذۡرٗا
٧٦
かれ(ムーサー)は言った。「今後わたしが,何かに就いてあなたに尋ねたならば,わたしを道連れにしないで下さい。(既に)あなたはわたしからの御許しの願いを,(凡て)御受け入れ下さいました。」

— Ryoichi Mita

(Musa) nói: “Sau lần này, nếu Tôi còn thắc mắc bất cứ điều gì thì Ông hãy không cho tôi đi cùng Ông nữa, bởi lúc đó Ông chắc chắn có đủ lý do để không chấp nhận (lời khẩn xin) của Tôi.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 18:75 đến 18:76
موسیٰ علیہ السلام کی بےصبری ٭٭

حضرت خضر علیہ السلام نے اس دوسری مرتبہ اور زیادہ تاکید سے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی منظور کی ہوئی شرط کے خلاف کرنے پر تنبیہ فرمائی۔ اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے بھی اس بار اور ہی راہ اختیار کی اور فرمانے لگے، اچھا اب کی دفعہ اور جانے دو اب اگر میں آپ پر اعتراض کروں تو مجھے آپ اپنے ساتھ نہ رہنے دینا، یقیناً آپ بار بار مجھے متنبہ فرماتے رہے اور اپنی طرف سے آپ نے کوئی کمی نہیں کی۔ اب اگر قصور کروں تو سزا پاؤں۔ ابن جریر میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی یاد آ جاتا اور اس کے لیے آپ دعا کرتے تو پہلے اپنے لیے کرتے۔ ایک روز فرمانے لگے ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور موسیٰ علیہ السلام پر کاش کہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ اور بھی ٹھہرتے اور صبر کرتے تو اور یعنی بہت سی تعجب خیز باتیں معلوم ہوتیں۔ لیکن انہوں نے تو یہ کہہ کر چھٹی لے لی کہ اب اگر پوچھوں تو ساتھ چھوٹ جائے۔ میں اب زیادہ تکلیف میں آپ کو ڈالنا نہیں چاہتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23232:صحیح] ‏

صفحہ نمبر4959