Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ma'arij 70:30

70:30
الا على ازواجهم او ما ملكت ايمانهم فانهم غير ملومين ٣٠
إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ٣٠
إِلَّا
عَلَىٰٓ
أَزۡوَٰجِهِمۡ
أَوۡ
مَا
مَلَكَتۡ
أَيۡمَٰنُهُمۡ
فَإِنَّهُمۡ
غَيۡرُ
مَلُومِينَ
٣٠
かれらの妻や右手の所有する者に限っている場合は別で,罪にはならない。

— Ryoichi Mita

Ngoại trừ với vợ hoặc với những nữ nô lệ dưới quyền của họ thì họ không bị khiển trách.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 70:29 đến 70:30

والذین .................... ھم العدون (13) (07 : 92 تا 13) ” جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں .... بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملو کہ عورتوں کے ، جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “۔

لہٰذا وہ اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ لونڈیوں کے ساتھ پاکیزہ تعلق قائم کرسکتے ہیں اور یہ تعلق پاکیزہ بھی ہو اور قانونی بھی ہو۔ اور اسلام لونڈیوں کا واحد قانونی راستہ اس طرح تجویز کرتا ہے کہ جو عورتیں جنگی قیدی کے طور پر آئیں اور ان کو فدیہ اور احسان کے طور پر چھوڑنے کا فیصلہ اسلامی حکومت نے نہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں سورة محمد کی یہ آیت اصول طے کرتی ہے :

فاذا ............................ اوزارھا ” پس جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرو تاکہ آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے “۔

لیکن بعض اوقات کسی قیدی کا تبادلہ نہیں ہوتا ، فدیہ بھی نہیں ملتا ، اور حکومت اسلامی بطور احسان چھوڑنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی تو اس صورت میں قیدی مرد یا عورت غلام ہوں گے جب تک دوسرا فریق مسلمان قیدیوں کو غلام بناتا ہے۔ اگرچہ دشمن قوم غلامی کا کوئی اور نام رکھ دے۔ یوں اس ناگزیر صورت میں اسلام نے لونڈیوں کے ساتھ صرف ان کے مالکوں کو معاشرت کی جازت دی ہے اور ان غلاموں کی آزادی کا بندوبست اسلام نے پھر ان صورتوں میں کسی ایک کے ذریعے کیا جو اس نے غلاموں کی آزادی کے لئے تجویز کیں۔ غلاموں کی آزادی کا بندوبست قرآن نے متعدد ذرائع سے کیا۔ اس طرح اسلام نے قدی عورتوں کو معاشرے میں کھپانے کا ایک واضح بندوبست کیا تاکہ وہ معاشرے کی اندر شتر بےمہار کی طرح پھر کر گندگی نہ پھیلائیں ، یوں ان کو معاشرے میں آزاد کردیا جائے کہ جو چاہئیں کریں۔