Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ma'idah 5:109

5:109
۞ يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انك انت علام الغيوب ١٠٩
۞ يَوْمَ يَجْمَعُ ٱللَّهُ ٱلرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبْتُمْ ۖ قَالُوا۟ لَا عِلْمَ لَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلْغُيُوبِ ١٠٩
۞ يَوۡمَ
يَجۡمَعُ
ٱللَّهُ
ٱلرُّسُلَ
فَيَقُولُ
مَاذَآ
أُجِبۡتُمۡۖ
قَالُواْ
لَا
عِلۡمَ
لَنَآۖ
إِنَّكَ
أَنتَ
عَلَّٰمُ
ٱلۡغُيُوبِ
١٠٩
アッラーが使徒たちを召集される日,かれらに,「あなたがたはどんな返答を得たか。」と仰せられよう。かれらは(答えて)申し上げる。「わたしたちには,知識はありません。誠にあなたは,凡ての奥義を熟知なされています。」

— Ryoichi Mita

(Hỡi nhân loại, các ngươi hãy nhớ đến) Ngày mà Allah sẽ tập kết toàn bộ các vị Thiên Sứ (của Ngài) rồi hỏi Họ: “Các cộng đồng của Các Ngươi đã đáp lại (sứ mạng của) Các Ngươi những gì?” Họ đáp: “Quả thật, bầy tôi không biết gì bởi lẽ chỉ có Ngài mới là Đấng biết rõ mọi điều vô hình.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
روز قیامت انبیاء سے سوال ٭٭

اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ ” رسولوں سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ تمہاری امتوں نے تمہیں مانا یا نہیں؟ “۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ» [7-الأعراف:6] ‏ یعنی ” رسولوں سے بھی اور ان کی امتوں سے بھی یہ ضرور دریافت فرمائیں گے “۔

صفحہ نمبر2498

اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ‏ [15-الحجر:93-92] ‏ ” تیرے رب کی قسم ہم سب سے ان کے اعمال کا سوال ضرور ضرور کریں گے “۔ رسولوں کا یہ جواب کہ ” ہمیں مطلق علم نہیں “، اس دن کی ہول و دہشت کی وجہ سے ہو گا، گھبراہٹ کی وجہ سے کچھ جواب بن نہ پڑے گا، یہ وہ وقت ہو گا کہ عقل جاتی رہے گی پھر دوسری منزل میں ہر نبی اپنی اپنی امت پر گواہی دے گا۔

ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سوال کی غرض یہ ہے کہ تمہاری امتوں نے تمہارے بعد کیا کیا عمل کئے اور کیا کیا نئی باتیں نکا لیں؟ تو وہ ان سے اپنی لاعلمی ظاہر کریں گے، یہ معنی بھی درست ہو سکتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا علم نہیں جو اے جناب باری تیرے علم میں نہ ہو۔ حقیقتاً یہ قول بہت ہی درست ہے کہ اللہ کے علم کے مقابلے میں بندے محض بے علم ہیں تقاضائے ادب اور طریقہ گفتگو یہی مناسب مقام ہے، گو انبیاء علیہم السلام جانتے تھے کہ کس کس نے ہماری نبوت کو ہمارے زمانے میں تسلیم کیا لیکن چونکہ وہ ظاہر کے دیکھنے والے تھے اور رب عالم باطن بین ہے اس لیے ان کا یہی جواب بالکل درست ہے کہ ہمیں حقیقی علم مطلقاً نہیں تیرے علم کی نسبت تو ہمارا علم محض لاعلمی ہے حقیقی عالم تو صرف ایک تو ہی ہے۔

صفحہ نمبر2499