Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ma'idah 5:22

5:22
قالوا يا موسى ان فيها قوما جبارين وانا لن ندخلها حتى يخرجوا منها فان يخرجوا منها فانا داخلون ٢٢
قَالُوا۟ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوْمًۭا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ ٢٢
قَالُواْ
يَٰمُوسَىٰٓ
إِنَّ
فِيهَا
قَوۡمٗا
جَبَّارِينَ
وَإِنَّا
لَن
نَّدۡخُلَهَا
حَتَّىٰ
يَخۡرُجُواْ
مِنۡهَا
فَإِن
يَخۡرُجُواْ
مِنۡهَا
فَإِنَّا
دَٰخِلُونَ
٢٢
かれらは言った。「ムーサーよ本当にそこには,巨大な民がいる。かれらが出て行かなければ,わたしたちは決してそこに入ることは出来ない。もしかれらがそこから去ったならば,わたしたちはきっと入るであろう。」

— Ryoichi Mita

(Người dân của Musa) đáp: “Hỡi Musa, quả thật trong (Jerusalem) đó có một đám dân có sức mạnh phi thường1. Chúng tôi sẽ không bao giờ vào đó cho tới khi nào họ rời đi. Nếu họ rời khỏi nơi đó thì chúng tôi mới đi vào.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

(آیت) ” قَالُوا یَا مُوسَی إِنَّ فِیْہَا قَوْماً جَبَّارِیْنَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا حَتَّیَ یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِن یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ (22)

” انہوں نے جواب دیا ” اے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں ‘ ہم وہاں ہر گز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ، ہاں اگر وہ نکل آئے تو ہم داخل ہونے کیلئے تیار ہیں ۔ ‘

یہاں آکر یہودیوں کی اصل سامنے آتی ہے وہ بالکل ننگے ہوجاتے ہیں اور ان پر بالکل مہین سا پردہ بھی نہیں رہتا ۔ یہ اس لئے کہ اب وہ ایک حقیقی خطرے کے سامنے کھڑے تھے ۔ اب وہ کسی قسم کی ظاہر داری بھی نہ کرسکتے تھے ۔ نہ وہ جھوٹی بہادری کا مظاہرہ اور بڑھکیں مار سکتے تھے ‘ نہ منافقت کرسکتے تھے ۔ خطرہ ان کی آنکھوں کے سامنے مجسم تھا اور قریب تھا ۔ اس لئے ان کو یہ بات بھی بچا نہ سکی کہ وہ اس سرزمین کے مالک ہیں اور یہ کہ اللہ نے وہ انکی قسمت میں لکھ دی ہے ‘ اس لئے کہ وہ تو نہایت ہی سستی فتح چاہتے تھے ‘ جس کی انہیں کوئی قیمت ادا کرنی نہ پڑے نہ اس کی راہ میں کوئی جدوجہد کرنی پڑے ۔ وہ اس قدر آرام دہ فتح چاہتے تھے جو ان پر من اور سلوی کی طرح نازل ہو کہتے ہیں :

(آیت) ” ۔۔۔۔۔۔ قَوْماً جَبَّارِیْنَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا حَتَّیَ یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِن یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ (22) لیکن فتح اور نصرت کی ذمہ داریاں وہ نہیں ہیں جو بنی اسرائیل کے زہن میں تھی ۔ ان کے دل تو ایمان سے فارغ تھے ۔ ان کے رجال مومن ان کو کہتے ہیں : ۔