Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ma'idah 5:7

5:7
واذكروا نعمة الله عليكم وميثاقه الذي واثقكم به اذ قلتم سمعنا واطعنا واتقوا الله ان الله عليم بذات الصدور ٧
وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَـٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٧
وَٱذۡكُرُواْ
نِعۡمَةَ
ٱللَّهِ
عَلَيۡكُمۡ
وَمِيثَٰقَهُ
ٱلَّذِي
وَاثَقَكُم
بِهِۦٓ
إِذۡ
قُلۡتُمۡ
سَمِعۡنَا
وَأَطَعۡنَاۖ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلِيمُۢ
بِذَاتِ
ٱلصُّدُورِ
٧
あなたがたに対するアッラーの恩恵と,かれがあなたがたと結ばれた約束を心に銘じ,あなたがたが,「わたしたちは聴きました,従います。」と言った時を思い,アッラーを畏れなさい。アッラーは,あなたがたが胸の中に抱くことを熟知なされる。

— Ryoichi Mita

Các ngươi hãy nhớ ân huệ của Allah đã ban cho các ngươi và (các ngươi hãy nhớ) giao ước mà các ngươi đã cam kết với Ngài khi các ngươi nói “chúng tôi xin nghe và tuân lệnh”. Các ngươi hãy kính sợ Allah, quả thật Allah hằng biết mọi điều trong lòng (của các ngươi).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

(آیت) ” نمبر 7۔

جن لوگوں کو سب سے پہلے قرآن نے خطاب کیا تھا وہ اس دین کی قدروقیمت کو اچھی طرح جانتے تھے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں اس لئے کہ وہ اس دین کی حقیقت اپنی ذات اور شخصیت کے اندر زندہ طور پر دیکھ رہے تھے ۔ یہ دین ان کی زندگی ‘ ان کی سوسائٹی اور ان کے اردگرد پوری بشریت میں اس کے مقام کے حوالے سے ان کی آنکھوں کے سامنے تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسمت کی طرف صرف اشارہ ہی ان کے لئے کافی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ بسہولت اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکتے تھے جو ان کی زندگی اور ماحول میں موجود تھی ۔

اسی طرح اس میں اس میثاق کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ اور یہاں اس کی طرف اس لئے اشارہ کیا گیا کہ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جسے وہ جانتے تھے اور اس پر وہ بہت فخر کرتے تھے ۔ اس معاہدے کا فریق اول اللہ تھا ۔ اور فریق دوئم وہ تھے اور یہ بات ان کے لئے نہایت ہی قابل قدر اور قابل عزت تھی ‘ اور یہ بات نہایت عظیم تھی اور وہ اس کی اہمیت اور حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے ۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خدا ترسی کے حوالے کرتے ہیں اور دل کے اندر اللہ کے خوف کا احساس کرنے اور خفیہ خطرات کے مقابلے میں ان کو بیدار کیا جاتا ہے ۔

(آیت) ” واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون “ (اللہ سے ڈرو ‘ اللہ ان باتوں سے خبردار ہے جو تم کرتے ہو) انداز تعبیر (آیت) ” بذات الصدور “۔ (5 : 7) باتصویر اور مفہوم کو تیزی سے منتقل کرنے والی ہے ۔ مناسب ہوگا کہ اس میں جو خوبصورتی ‘ معنی خیزی اور گہرائی ہے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ۔ ذات الصدور کا مفہوم عربی میں ” دلوں کی مالکہ “ جو دلوں میں چسپاں ہو ‘ کنایتہ مراد وہ خفیہ جذبات ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ پوشیدہ میلانات ‘ دلوں کے خلجان ‘ خفیہ راز ایسے راز جو دلوں کے ساتھ چسپاں ہیں۔ یہ خفیہ راز بھی اللہ کے سامنے بالکل کھلے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ دلوں میں چھپی باتوں کا بھی جاننے والا ہے ۔

وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے لیا ہے ‘ اس میں یہ بات بھی ہے کہ یہ امت پوری انسانیت کے لئے عدل و انصاف کی نگران ہوگی ۔ ایسا انصاف کہ اس کے ترازو کا کوئی پلڑا دوستی اور دشمنی کی وجہ سے جھک نہ جائے ، اس پر رشتہ داری اور خواہشات نفسانیہ کے اثرات بھی نہ ہوں اور نہ وہ کسی مصلحت سے متاثر ہو ۔ یہ عدل صرف ذات باری کی رضا کے لئے ہو اور اس میں انصاف کرنے والا موثرات دنیا میں سے کسی موثر سے اثر نہ لے اور یہ انصاف اس شعور کے تحت ہو کہ اللہ رقیب اور نگہبان ہے اور خفیہ ترین گوشوں سے باخبر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی پکار یہ ہے ۔