Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Mulk 67:12

67:12
ان الذين يخشون ربهم بالغيب لهم مغفرة واجر كبير ١٢
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِٱلْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌۭ كَبِيرٌۭ ١٢
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
يَخۡشَوۡنَ
رَبَّهُم
بِٱلۡغَيۡبِ
لَهُم
مَّغۡفِرَةٞ
وَأَجۡرٞ
كَبِيرٞ
١٢
本当に目に見えない主を,畏れる者には,容赦と偉大な報奨があろう。

— Ryoichi Mita

Quả thật, những người kính sợ Thượng Đế của họ dù không nhìn thấy Ngài vẫn sẽ được tha thứ và sẽ có được một phần thưởng to lớn.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ان الذین ................ اجرکبیر

غیب سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں اور اس سے ڈرتے ہیں ، اور یہ مراد بھی ہے کہ اس حالت میں بھی رب سے ڈرتے ہیں جب انہیں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ ایک انسان جب چھپے ہوئے بھی برائی نہیں کرتا تو اس کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اور وہ خدا کا صحیح طرح مومن ہوتا ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے ، طالوت ابن عباد سے ، انہوں نے حارث ابن عبید سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس سے وہ کہتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اے رسول خدا .... ہم آپ کے پاس ایک حال میں ہوتے ہیں لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمارا حال اور ہوتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا تم اور تمہارے رب کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رب تو تنہائی میں اور محفل میں ہر جگہ ہمارا رب ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ ” نفاق نہیں ہے “۔ لہٰذا اللہ کے ساتھ رابطہ حقیقی رابطہ ہے۔ جب اللہ پر یقین ہو تو ایسا شخص مومن ہے۔

یہ مذکورہ بالا آیت مضمون ماقبل اور مضمون مابعد دونوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ کہ اللہ کو ہر حالت کا علم ہے خواہ کوئی ظاہر ہو یا خفیہ ، تنہائیوں میں ہو۔ اللہ تعالیٰ پکار کر لوگوں کو کہتا ہے کہ میں نے تمہیں پیدا کیا اور میں تمہارے ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہوں مجھے اپنی مخلوق کی تمام صلاحیتوں کا علم ہے۔