Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Mulk 67:22

67:22
افمن يمشي مكبا على وجهه اهدى امن يمشي سويا على صراط مستقيم ٢٢
أَفَمَن يَمْشِى مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِۦٓ أَهْدَىٰٓ أَمَّن يَمْشِى سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ٢٢
أَفَمَن
يَمۡشِي
مُكِبًّا
عَلَىٰ
وَجۡهِهِۦٓ
أَهۡدَىٰٓ
أَمَّن
يَمۡشِي
سَوِيًّا
عَلَىٰ
صِرَٰطٖ
مُّسۡتَقِيمٖ
٢٢
顔を伏せて(只頑なに)歩く者と,正しい道の上を規則正しく歩く者と,どちらがよく導かれるのか。

— Ryoichi Mita

Vậy thì một kẻ sấp mặt bước đi (không có chiều rộng hay chiều sâu đối với đường nhìn của mình, hầu như không nhìn thấy những gì đang chạm vào mặt mình) được hướng dẫn tốt hơn, hay một người bước đi ngay thẳng (với một đường nhìn rõ ràng về những gì ở phía trước) trên một con đường thẳng?

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

افمن .................... مستقیم

” جو شخص اوندھا چلتا ہے وہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ کہ وہ پاﺅں پر سیدھا نہیں چلتا بلکہ منہ کے بل چلتا ہے ، حالانکہ اللہ نے چلنے کے لئے پاﺅں پیدا کئے ہیں ، یا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ راہ میں گرتا پڑتا ہے اور پھر اٹھ کر چلتا ہے۔ اور پھر منہ کے بل گرتا ہے ، اور اسے سیدھی چال نصیب نہیں ہے۔ یہ اس بدبخت شخص کی حالت ہے جو مشقت برداشت کرتا ہے ، تکلیفیں اٹھاتا ہے ، گرتا پڑتا جاتا اور منزل مقصود سے بھی محروم رہتا ہے ، اس کے مقابلے میں ایک مومن سیدھا شاہراہ پر ایک متوازن رفتار سے جارہا ہے ، راستہ بھی واضح ہے ، جاری راستہ ہے اور یقینا منزل تک پہنچانے والا راستہ ہے۔

پہلا حال ایک بدبخت ، گمراہ اور سرکش انسان کا ہے۔ یہ اللہ کی راہ سے محروم ہے ، اللہ کی ہدایت سے محروم ہے۔ یہ اللہ کے قوانین قدرت سے محروم ہے ، یہ فطرت کے اصولوں سے ٹکراتا ہے ، مخلوق خدا سے متصادم ہے۔ اس لئے کہ یہ غلط راہ پر چلتا ہے اور سیدھی راہ نہیں لیتا۔ یہ غلط پگڈنڈیوں پر جارہا ہے جن میں نشیب و فراز اور پتھریلی راہ ہے۔ یہ گرتا جاتا ہے اور سخت مشقت میں راہ طے کررہا ہے اور دائمی گمراہی میں ہے۔

اور دوسرا وہ شخص ہے جو نیک بخت ، سنجیدہ ، راہ خدا سے واقف ، اس پر چلنے والا ، اللہ کے قوانین قدرت کے مطابق صحیح رفتار رکھتا ہے ، سیدھی جاری راہ پر ہے جس پر قافلہ ایمان اپنے لاﺅ لشکر اور سازو سامان کے ساتھ رواں دواں ہے جس پر اس پوری کائنات کا قافلہ مخلوقات رواں دواں ہے۔ خواہ زندہ مخلوق ہے یا غیر زندہ !

ایمان کی زندگی درصل یسر ہے ، آسانی ہے ، استقامت ہے ، سیدھی راہوں پر چین ہے ، اور کفر کی زندگی سختی ہے ، گرنا پڑنا ہے ، اوندھا چلنا ہے اور غلط راہوں پر چلنا ہے۔

پھر ہر شخص غور کرے کہ ان دونوں میں سے کون سی راہ درست ہے ، کیا اس کے جواب کی ضرورت ہے۔ نہیں اس سوال کے اندر جواب موجود ہے۔ یہ تصدیقی اور تقریری سوال ہے کہ بات یہی ہے۔

یہ سوال و جواب یوں ختم ہوتا ہے جب ہمارا تخیل ان دو افراد کی تصویر اور تمثیل کے پیچھے دوڑتا ہے۔ ایک گروہ ہے کہ اپنے منہ کے بل چتا ہے ، گرتا ہے ، اٹھتا ہے ، پھر گرتا ہے ، پتھریلی راہ ہے۔ ٹیڑھی راہ ، خاردار راہ ہے۔ منزل مقصود معلوم نہیں ہے ، صرف گرتا ، اٹھتا ہے۔ ہر کوئی اپنے طور پر بھاگ رہا ہے جبکہ دوسری ایک جماعت ہے جو ایک قافلے کی شکل میں ہمقدم چل رہی ہے۔ جس عے قدم سیدھے نہیں ، راہ سیدھی ہے ، جاری رہا ہے بلکہ شاہراہ ، اور منزل مقصود یعنی کہ سب لوگ ادھر جارہے ہیں۔

یہ ہے قرآنی انداز گفتگو کہ معنوی اور فلسفیانہ حقائق کو نہایت ہی مجسم اور مشخص انداز میں ہماری نظروں کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ معانی چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

مکبا علی ................ اھدی (76 : 22) ہدایت وضلالت کے ذکر کے بعد ، اب ان کو وہ وسائل دکھائے جاتے ہیں جو اللہ نے ہدایت وضلالت کے سلسلے میں ان کو دے رکھے ہیں ، یعنی وہ قدرتی قوتیں جن کے ذریعے وہ حقائق کا ادراک کرسکتے ہیں۔ جن سے وہ فائدہ نہ اٹھاتے تھے اور جن کا وہ شکر بھی ادا نہ کرتے تھے۔