Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Mulk 67:23

67:23
قل هو الذي انشاكم وجعل لكم السمع والابصار والافيدة قليلا ما تشكرون ٢٣
قُلْ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَـٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۖ قَلِيلًۭا مَّا تَشْكُرُونَ ٢٣
قُلۡ
هُوَ
ٱلَّذِيٓ
أَنشَأَكُمۡ
وَجَعَلَ
لَكُمُ
ٱلسَّمۡعَ
وَٱلۡأَبۡصَٰرَ
وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ
قَلِيلٗا
مَّا
تَشۡكُرُونَ
٢٣
言ってやるがいい。「かれこそはあなたがたを創り,あなたがたのために,聴覚,視覚,感情(知力)を与えられた方である。何とあなたがたの感謝の念の薄いことよ。」

— Ryoichi Mita

(Hỡi Thiên Sứ Muhammad!) Ngươi hãy nói (với những kẻ đa thần): “Ngài (Allah) là Đấng đã tạo ra các ngươi, ban cho các ngươi thính giác, thị giác và trái tim nhưng các ngươi rất ít biết ơn Ngài.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

قل ھوا .................... تشکرون

” یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا ، اور اسے دیکھنے سننے اور سوچنے کی قوتیں بھی اللہ ہی نے دیں اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے انسان اعلیٰ ارفع مخلوق ہے۔ اور وہ اس جہاں میں موجود ہے۔ اس نے خود اپنے آپ کو نہیں پیدا کیا ، لہٰذا اس سے اعلیٰ وارفع اور زیادہ علم والا موجود ہوگا۔ اور وہی خالق ہے ، کوئی شخص خالق کے اعتراف سے نہیں بھاگ سکتا ، کیونکہ خود انسان کا محض وجود ہی تقاضا کرتا ہے کہ کوئی ارفع قوت موجود ہے اور اس میں بحث وجدال کرنا اور شک کرنا محض ہٹ دھرمی ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو یہاں اس لئے لاتا ہے کہ وہ بتائے کہ اللہ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی قوتیں دی ہیں۔

وجعل .................... والا فئدة (76 : 32) ” تم کو سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی طاقتیں دیں “۔ اور انسان نے اللہ کے یہ انعامات پاکر کیا کیا ؟ یہ سمع ، یہ بصارت اور یہ عقل کی قوت ؟ اور انسان کا طرز عمل دیکھئے !

قلیلاً ما تشکرون (76 : 32) ” مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو “۔

سننے کی قوت اور دیکھنے کی قوت انسان کے نفس کے اندر دو عجیب معجزے ہیں۔ انسان نے ان کے بعض پہلو معلوم کر لئے ہیں۔ اور والافئدة سے قرآن سوچنے کی قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ تو اعجب العجائب ہے۔ انسان کی عقلی قوت کے بارے میں ابھی تک انسان پوری معلومات نہیں حاصل کرسکا۔ عقل انسان کے اندر اللہ کا ایک منفرد معجزہ ہے۔

جدید علوم نے سننے کی قوت کے بارے میں بعض حیران کن باتوں کو دریافت کرلیا ہے ، مناسب ہے ان میں سے بعض چیزوں کا یہاں ذکر کردیا جائے۔

” ہمارے سننے کی حس بیرونی کان سے کام شروع کرتی ہے اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اس کی انتہا کہاں ہوتی ہے ؟ سائنس دان کہتے ہیں کہ کہ آواز ہوا کے اندر جو لہریں پیدا کرتی ہے یہ لہریں کان تک جاتی ہیں۔ یہ کان ان کے اندر داخل کرنے کے لئے منظم کرتا ہے ، تاکہ یہ کان کے پردے کے اوپر پڑیں اور یوں یہ آواز کام کے پردے کی دوسری طرف گہرائی تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ گہرائی ایسی ہے کہ اس میں اسپرنگ کی طرح گول نالیاں ہیں اور یہ نصف دائرے کی شکل میں ہیں۔ اس گول نالیوں کے حصے میں چار ہزار قوس ہیں ، جو سر کے آلہ سماعت کے ساتھ پیوست ہیں “۔

” سوال یہ ہے کہ ہر ایک قوس کا طول کیا ہے اور اس کا حجم کیا ہے اور یو قوس کس طرح بنائے گئے ہیں ، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے اور یہ کس قدر چھوٹی جگہ میں رکھ دیئے گئے ہیں جبکہ ان کے علاوہ اور کئی ہڈیاں ہیں جو موجوں کی طرح متحرک ہوتی ہیں۔ اور یہ تمام سامان کان کے پردے کے پیچھے ایک چھوٹی سی کھلی جگہ میں ہے ! کان میں ایک سو ہزار (ایک لاکھ) سماعتی خلیات ہیں ! اور سماعت کے اعصاب کے آخر میں باریک ترین ریشے ہیں ، جن کی باریکی ہی محیرالعقول ہے اور اس کے تصور ہی سے سر چکرانے لگتا ہے “۔ (اللہ اور جدید علوم ، عبدالرزاق نوفل ، ص 75)

” انسانی حاسہ بصارت کو ذرا دیکھئے ، اس کے مرکز میں روشنی کا استقبال کرنے والوں کی 031 ملین (31 لاکھ) سیل ہیں۔ یہ استقبال کرنے والی آنکھیں اعصاب کے سرے ہیں اور آنکھ کے اہم حصے صلبہ قرنیہ (Cornea) جھلی (Plancenta) جالی (Ratina) یہ اہم اعضا ، ہزارہا اعصاب اور مراکز کے علاوہ ہیں۔ (حوالہ بالا ص 85) ۔

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کرکے یہ خصوصیات اسے عبث نہیں دیں۔ اور نہ بغیر کسی ارادے منصوبے کے یونہی اتفاقاً یہ کام ہوگیا ہے۔ بلکہ یہ اس لئے دی گئی ہیں کہ انسان اس زمین پر زندگی بسر کرسکے۔ اور یوم الجزاء میں پھر اس سے زندگی کا حساب لے کر اسے جزاء وسزا دی جائے۔