Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Mu'minun 23:118

23:118
وقل رب اغفر وارحم وانت خير الراحمين ١١٨
وَقُل رَّبِّ ٱغْفِرْ وَٱرْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰحِمِينَ ١١٨
وَقُل
رَّبِّ
ٱغۡفِرۡ
وَٱرۡحَمۡ
وَأَنتَ
خَيۡرُ
ٱلرَّٰحِمِينَ
١١٨
(祈って)言うがいい。「主よ,御赦しを与え,慈悲を与えて下さい。あなたは最も優れた慈悲を与える方であられます。」

— Ryoichi Mita

(Hỡi Thiên Sứ Muhammad!) Ngươi hãy cầu nguyện: “Lạy Thượng Đế của bề tôi, xin Ngài tha thứ cho bề tôi và thương xót bề tôi bởi Ngài là Đấng thương xót tốt nhất!”.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 23:116 đến 23:118

فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔

اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں گے ان کو اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہوگا اور حساب کا نتیجہ یہی ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ اٹل ہے۔ اس کے بالمقابل اہل ایمان فلاح پائیں گے اور یہ تقاضائے فطرت و تقاضے ئے ناموس کائنات ہے۔

اب کافروں کے پاس جو انعامات ہیں ‘ دنیا کا سازو سامان ہے اور دنیا کا اقتدار ہے جو بعض اوقات قائم ہوتا رہتا ہے تو یہ ان کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے فتنہ اور آزمائش ہے۔ اگر ان میں سے بعض اس دنیا میں بلاحساب چلے جائیں تو آخرت میں حساب ان کے لیے تیار ہے ‘ وہاں ان کو پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ آخرت کا حساب اس تخلیق کا آخری منظر ہوگا۔ اللہ کی تخلیق کے نظام میں آخرت اس دنیا سے علیحدہ اور دور نہیں ہے۔ یہ اس دنیا کا آخری صفحہ ہے اور اس کا حصہ ہے۔

سورة مومنون کی آخری آیت میں نبی ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کی طلب کرتے رہیں۔

وقل رب ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین (23 : 118) ” اور اے نبی ﷺ کہو ‘ میرے رب درگزر فرما اور رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے “۔ دیکھئے سورة کا آغاز اور انجام ایک ہی مضمون پر ہوتا ہے۔ آغاز بھی اس مضمون سے ہے کہ مومنین کامیاب ہوئے اور کافرین خسارے میں پڑگئے۔ آغاز میں بھی یہ مضمون تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع اختیار کیا جائے اور یہاں بھی اللہ کے سامنے دعاء اور طلب رحمت ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام یکساں ہوجاتے ہیں۔