Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Mu'minun 23:76

23:76
ولقد اخذناهم بالعذاب فما استكانوا لربهم وما يتضرعون ٧٦
وَلَقَدْ أَخَذْنَـٰهُم بِٱلْعَذَابِ فَمَا ٱسْتَكَانُوا۟ لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ ٧٦
وَلَقَدۡ
أَخَذۡنَٰهُم
بِٱلۡعَذَابِ
فَمَا
ٱسۡتَكَانُواْ
لِرَبِّهِمۡ
وَمَا
يَتَضَرَّعُونَ
٧٦
且つて,われはかれらに懲罰を加えたが,かれらはなお,主にへり下ることなく,素直に嘆願しない。

— Ryoichi Mita

Quả thật, TA đã trừng phạt họ nhưng họ vẫn không chịu hạ mình trước Thượng Đế của họ và cũng không chịu van xin khẩn cầu.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 23:75 đến 23:77

ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔

یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔

اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور مشکلات سے فائدہ اور نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن جب کو ئی اپنی گمراہی اور سرکشی میں بہت آگے چلا جائے اور اندھا ہوجائے تو اس شخص سے مایوس ہوجا نا چاہیے ۔ اس کی اصلاح کی پھر کوئی امید نہیں رہتی۔ اسے چھوڑ دیا جائے کہ وہ عذاب آخرت کا شکار ہو اور یہ آخرت بہت ہی اچانک ہوگی۔ اچانک ہر کسی کے سامنے آجائے گی اور تمام لوگ اس وقت حیران و پریشان ہوں گے اور اس بات سے مایوس ہوں گے کہ اب ہر کوئی خلاصی ممکن ہے۔

ایک بار پھر ان کے شعور اور وجدان کو جگانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ النفس و آفاق میں دلائل ایمان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسے امور کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو پیش یا افتادہ ہیں۔