Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Mu'minun 23:91

23:91
ما اتخذ الله من ولد وما كان معه من الاه اذا لذهب كل الاه بما خلق ولعلا بعضهم على بعض سبحان الله عما يصفون ٩١
مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدٍۢ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنْ إِلَـٰهٍ ۚ إِذًۭا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ٩١
مَا
ٱتَّخَذَ
ٱللَّهُ
مِن
وَلَدٖ
وَمَا
كَانَ
مَعَهُۥ
مِنۡ
إِلَٰهٍۚ
إِذٗا
لَّذَهَبَ
كُلُّ
إِلَٰهِۭ
بِمَا
خَلَقَ
وَلَعَلَا
بَعۡضُهُمۡ
عَلَىٰ
بَعۡضٖۚ
سُبۡحَٰنَ
ٱللَّهِ
عَمَّا
يَصِفُونَ
٩١
アッラーは子をもうけられない。またかれに並ぶ神もない。そうであったら,それぞれの神は自分の創ったもので分裂しお互いに抜き出ようとして競い合う。かれらの述べることを超越されるアッラーに讃えあれ。

— Ryoichi Mita

Allah không nhận bất cứ ai làm con trai (của Ngài) và Ngài cũng không hề có bất cứ thần linh nào bên cạnh Ngài (để chia sẻ cùng Ngài) bởi vì (nếu có nhiều thần linh cùng với Ngài) thì chắc chắn mỗi vị sẽ lấy đi cái mà mỗi vị đã tạo ra và chắc chắn vị này sẽ muốn cai trị vị kia (gây ra sự náo loạn). Quả thật, Allah quang vinh và tối cao hơn những gì họ đã qui cho Ngài.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 23:90 đến 23:92

بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے

ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔

اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا ہے “۔ وہ اپنی مخلوقات میں ایک مستقل خدا ہوتا اور وہ اپنی مخلوقات میں اپنے مخصوص قانون قدرت کے مطابق تصرفات کرتا ۔ اس طرح مختلف کائناتوں میں مختلف قوانین نظر آئے اور وہ یہ دوسرے خدا کے قوانین نظر آئے اور وہ دوسرے خدا کے قوانین اور سے علیحدہ نظر آتے۔ پھر تضاد کی صورت میں۔

ولعلا بعضھم علی بعض (23 : 90) ” پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے “ تضاد کی صورت میں بعض خدا بعض پر غالب ہوتے ۔ یوں آخر کا ایک ہی خدا متصرف اور مقتدر اعلیٰ رہتا اور دنیا میں آخر کا ایک ہی نظام چلتا کیونکہ ایک ملک میں دو مقتدر اعلی تو نہیں ہوسکتے۔

چونکہ کائنات میں اس قسم کا تضاد نہیں ہے ، اس کی وحدت ساخت ، اور اس کی حرکت کی یانگت اور اس کے ناموس اور قانون قدرت کی وحدت اس با کی دلیل ہے کہ اس کا مقتدر اعلیٰ ایک ہے کیونکہ اس کا ئنات کے اندر اور اس کے اجزاء کے اندر کوی تصادم نظر نہیں آتا۔ یہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہی ہے اس لیے اس کا رب اور متصرف بھی ایک ہے ۔

سبحن اللہ عما یصفون (23 : 90) ” وہ بالا تر ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں “۔ وہ عالم الغٰب ہے اور عالم شہادت ہے ۔ اس کے سوا کسی اور کی کوئی مخلوق نہیں ہے اس لیے اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کرتے ہیں۔

اب یہاں سے روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اے محمد ؐ اس بات سے اللہ کی پناہ طلب کریں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ آپ ؐ شامل ہوجائیں اگرچہ الل نے یہ فیصلہ کردیا کہ ان لوگوں کو جو سزا ملنے والی ہے وہ اللہ آپ کو دکھائے گا ۔ بہر حال آپ شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگیں اور یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کریں ۔