Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Munafiqun 63:9

63:9
يا ايها الذين امنوا لا تلهكم اموالكم ولا اولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذالك فاولايك هم الخاسرون ٩
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَٰلُكُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ ٩
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
لَا
تُلۡهِكُمۡ
أَمۡوَٰلُكُمۡ
وَلَآ
أَوۡلَٰدُكُمۡ
عَن
ذِكۡرِ
ٱللَّهِۚ
وَمَن
يَفۡعَلۡ
ذَٰلِكَ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡخَٰسِرُونَ
٩
信仰する者よ,あなたがたの富や子女にかまけて,アッラーを念じることを疎かにしてはならない。そうする者(アッラーを念わない者)は,自らを損う者である。

— Ryoichi Mita

Hỡi những người có đức tin! Các ngươi chớ để cho tài sản và con cái của các ngươi làm cho các ngươi xao lãng việc tưởng nhớ Allah. Những ai làm thế thì đó là những kẻ thua thiệt.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
مال و دولت کی خود سپردگی خرابی کی جڑ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” وہ بکثرت ذکر اللہ کیا کریں اور تنبیہ کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر ذکر اللہ سے غافل ہو جاؤ “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” جو ذکر اللہ سے غافل ہو جائے اور دنیا کی زینت ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے، اپنے رب کی اطاعت میں سست پڑ جائے، وہ اپنا نقصان آپ کرنے والا ہے “۔

پھر اپنی اطاعت میں مال خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے کہ ” اپنی موت سے پہلے خرچ کر لو، موت کے وقت کی بے بس دیکھ کر نادم ہونا اور امیدیں باندھنا کچھ نفع نہ دے گا، اس وقت انسان چاہے گا کہ تھوڑی سی دیر کے لیے بھی اگر چھوڑ دیا جائے تو جو کچھ نیک عمل ہو سکے کر لے اور اپنا مال بھی دل کھول کر راہ اللہ دے لے، لیکن آہ اب وقت کہاں، آنے والی مصیبت آن پڑی اور نہ ٹلنے والی آفت سر پر کھڑی ہو گئی “۔

اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمْ الْعَذَاب فَيَقُول الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَل قَرِيب نُجِبْ دَعْوَتَك وَنَتَّبِعْ الرُّسُل أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْل مَا لَكُمْ مِنْ زَوَال» [14-ابراھیم:44] ‏ الخ، یعنی ” لوگوں کو ہوشیار کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا تو یہ ظالم کہنے لگیں گے، اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت مل جائے تاکہ ہم تیری دعوت قبول کر لیں اور تیرے رسولوں کی اتباع کریں “۔

صفحہ نمبر9534