Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Qamar 54:48

54:48
يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر ٤٨
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى ٱلنَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا۟ مَسَّ سَقَرَ ٤٨
يَوۡمَ
يُسۡحَبُونَ
فِي
ٱلنَّارِ
عَلَىٰ
وُجُوهِهِمۡ
ذُوقُواْ
مَسَّ
سَقَرَ
٤٨
火の中に顔を下にして引きずられるその日,かれらは,「猛火の触れ具合を味わいなさい。」(と言われよう)。

— Ryoichi Mita

Vào Ngày mà chúng sẽ bị lôi úp mặt trong Hỏa Ngục (và chúng được bảo): “Các ngươi hãy nếm (cảm giác) của Lửa (thiêu đốt)!”

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 54:47 đến 54:48

ان المجرمین ............ مس سقر (45: 8 4) ” یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ (یاگمراہی اور آگ میں ہیں) جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے۔ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ “ یعنی وہ گمراہی میں ہیں جہاں عقل اور روح کی سزا ہوتی ہے اور جہنم میں ہیں جہاں جسم اور جلد کو سزا ہوتی ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ کہتے تھے اور ان جیسے سب لوگوں نے بھی کہا ہے۔

ابشرامنا ................ وسعر (45:4 2) ” کیا ہم میں سے ایک اکیلے شخص کی ہم تابعداری شروع کردیں۔ اگر ایسا کریں تو گویا ہم بہک گئے اور کئی آگوں میں پڑگئے۔ “ اب ان کو معلوم ہوگا کہ گمراہی اس اتباع میں ہے یا انکار میں ہے اور آگ اتباع رسول میں ہے یا مخالفت رسول میں ہے۔

نہایت ہی سختی ، حقارت سے منہ کے بل آگ میں گرادیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ دنیا میں وہ استکبار اور غرور کے ساتھ کام کرتے تھے اور قوت کے بل بوتے پر فیصلے کرتے تھے۔ اب یہاں جسمانی عذاب کے ساتھ ساتھ ان کو روحانی اور نفسیاتی عذاب بھی دیا جائے گا۔ یوں سرزنش کرکے۔

ذوقوا مس سقر (45: 8 4) ” چکھو جہنم کی آگ کی لپٹ “

اس خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سایہ میں اب روئے سخن تمام لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے۔ حضور نبی ﷺ کی قوم کی طرف تاکہ ان کے دلوں میں اللہ کی حکمت وتدبیر اور اللہ کی تقدیر اور فیصلوں کی حقیقت بیٹھ جائے۔

یہ دنیا ہو یا آخرت ہو ، اس دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا عذاب ہو ، اس سے قبل کی رسالتیں اور تنبیہات ہوں یا قرآن اور نبی آخرالزمان ہوں ، یہ پوری کائنات یا اس کا انتظام وانصرام ہو یا یہ چھوٹی چیز ہو یا بڑی چیز ہو ، یہ سب کی سب ایک اندازے اور ایک سکیم کے مطابق اللہ کی حکمت کے مطابق پیدا کئے گئے ہیں۔ کوئی چیز بھی بےمقصد ، اتفاقاً ، عبث اور بےسوچے سمجھے پیدا نہیں کی گئی۔