Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Qasas 28:56

28:56
انك لا تهدي من احببت ولاكن الله يهدي من يشاء وهو اعلم بالمهتدين ٥٦
إِنَّكَ لَا تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ ٥٦
إِنَّكَ
لَا
تَهۡدِي
مَنۡ
أَحۡبَبۡتَ
وَلَٰكِنَّ
ٱللَّهَ
يَهۡدِي
مَن
يَشَآءُۚ
وَهُوَ
أَعۡلَمُ
بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
٥٦
本当にあなたは,自分の好む者(の凡て)を導くことは出来ない。だがアッラーは御心のままに導き下される。かれは導かれた者を熟知なされる。

— Ryoichi Mita

(Hỡi Thiên Sứ Muhammad) Ngươi chắc chắn không thể hướng dẫn được bất cứ ai Ngươi yêu thương mà chính Allah mới là Đấng hướng dẫn người nào Ngài muốn. Quả thật, Ngài biết rõ nhất về những người được hướng dẫn (theo Chính Đạo).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 28:52 đến 28:56

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حق ہے، اس ليے ماننا ۔دوسري یہ کہ اپنے گروہ کا ہے اس ليے ماننا۔ ان دونوں میں صرف پہلی قسم کے انسان ہیں جن کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اور اسی قسم کے لوگ تھے جو دور اوّل میں قرآن اور پیغمبر پر ایمان لائے۔

عیسائیوں اور یہودیوں میں ایک تعداد تھی جو قرآن کو سنتے ہی اس کی مومن بن گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو سابق پیغمبروں کی حقیقی تعلیمات پر قائم تھے۔ اس ليے ان کو پیغمبر آخر الزماں کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے نئے پیغمبر کو بھی اسی طرح پہچان لیا جس طرح انھوں نے پچھلے پیغمبروں کو پہچانا تھا۔ مگر اپنے آپ کو اس قابل رکھنے کے ليے انھیں ’’صبر‘‘ کے مرحلوں سے گزرنا پڑا۔

انھوںنے اپنے ذہن کو ان اثرات سے پاک رکھا جس کے بعد آدمی حق کی معرفت کے ليے نااہل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی عوامل ہیں جو آدمی کے ذہن میں خدائی دین کو گروہی دین بنا دیتے ہیں۔ آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ صرف اس دین کو پہچان سکے جو اس کے اپنے گروہ سے ملا ہو۔ وہ اس دین کو پہچاننے میں ناکام رہے جو اس کے اپنے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آئے۔ ان اثرات سے محفوظ رہنے کے ليے آدمی کو زبردست نفسیاتی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس ليے اس کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ ایسے لوگوں کو دہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک ان کی اس قربانی کا کہ انھوںنے اپنے سابقہ ایمان کو گروہی ایمان بننے نہیں دیا۔ اور دوسرے ان کی جوہر شناسی کا کہ ان کے سامنے نیا پیغمبر آیا تو انھوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کے ساتھ ہوگئے۔

جن لوگوں کے اندر حق شناسی کا مادہ ہو انھیں کے اندر اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ برائی کریں تب بھی وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی مدد کرے۔ ان کا طریقہ اعراض کا طریقہ ہوتاہے، نہ کہ لوگوں سے الجھنے کا طریقہ۔