Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ali 'Imran 3:115

3:115
وما يفعلوا من خير فلن يكفروه والله عليم بالمتقين ١١٥
وَمَا يَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ ١١٥
وَمَا
يَفۡعَلُواْ
مِنۡ
خَيۡرٖ
فَلَن
يُكۡفَرُوهُۗ
وَٱللَّهُ
عَلِيمُۢ
بِٱلۡمُتَّقِينَ
١١٥
かれらの行う善事は,一つとして(報奨を)拒否されることはないであろう。アッラーは主を畏れる者を御存知であられる。

— Ryoichi Mita

Bất cứ điều tốt nào họ làm (dù nhiều hay ít) sẽ không bao giờ bị vứt bỏ (mà sẽ được đền đáp đầy đủ cho công sức của họ), bởi Allah biết rõ người ngoan đạo.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 3:113 đến 3:115

یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔

یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔

یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔