Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ali 'Imran 3:116

3:116
ان الذين كفروا لن تغني عنهم اموالهم ولا اولادهم من الله شييا واولايك اصحاب النار هم فيها خالدون ١١٦
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ١١٦
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
لَن
تُغۡنِيَ
عَنۡهُمۡ
أَمۡوَٰلُهُمۡ
وَلَآ
أَوۡلَٰدُهُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
شَيۡـٔٗاۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ
أَصۡحَٰبُ
ٱلنَّارِۖ
هُمۡ
فِيهَا
خَٰلِدُونَ
١١٦
本当に信仰しない者の財宝もその子女も,アッラーに対しては少しも役立たないであろう。かれらは業火の住人である。永遠にその中に住む。

— Ryoichi Mita

Quả thật, những kẻ vô đức tin, con cái và tài sản của họ sẽ không giúp ích được gì cho họ trước (sự trừng phạt của) Allah. Họ chính là cư dân của Hỏa Ngục, họ sẽ sống trong đó mãi mãi.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 3:113 đến 3:117
ظلم نہیں سزا ٭٭

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:122/7] ‏ لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام سیدنا اسد بن عبید، سیدنا ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان امر اللہ پر قائم ہیں۔ شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اس سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت «وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ» [3-آل عمران:199] ‏، بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر، اس قرآن پر، اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا

تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ «صِرٌّ» کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہو جائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہو جائے اور امیدوں پر پانی پھر جائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں بلکہ عذاب ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔

صفحہ نمبر1246