Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
3:13
قد كان لكم اية في فيتين التقتا فية تقاتل في سبيل الله واخرى كافرة يرونهم مثليهم راي العين والله يويد بنصره من يشاء ان في ذالك لعبرة لاولي الابصار ١٣
قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌۭ فِى فِئَتَيْنِ ٱلْتَقَتَا ۖ فِئَةٌۭ تُقَـٰتِلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌۭ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ ٱلْعَيْنِ ۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ ١٣
قَدۡ
كَانَ
لَكُمۡ
ءَايَةٞ
فِي
فِئَتَيۡنِ
ٱلۡتَقَتَاۖ
فِئَةٞ
تُقَٰتِلُ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
وَأُخۡرَىٰ
كَافِرَةٞ
يَرَوۡنَهُم
مِّثۡلَيۡهِمۡ
رَأۡيَ
ٱلۡعَيۡنِۚ
وَٱللَّهُ
يُؤَيِّدُ
بِنَصۡرِهِۦ
مَن
يَشَآءُۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَعِبۡرَةٗ
لِّأُوْلِي
ٱلۡأَبۡصَٰرِ
١٣
両軍が遭遇した時,はっきりとあなたに印があった。一つはアッラーの道のために合戦する軍勢,外は不信心な者であった。かれら(不信者)の眼には,(ムスリム軍勢が)2倍に見えた。アッラーは御心に適う者を,かれの救護で擁護される。誠にその中には,炯限な者への教訓がある。

— Ryoichi Mita

Quả thật, các ngươi đã có bằng chứng (rõ ràng) qua cuộc giao tranh giữa hai đoàn quân (tại Badr)1, một bên là đoàn quân (Muslim) anh dũng chiến đấu vì chính nghĩa của Allah và bên còn lại là đoàn quân vô đức tin. Chúng thấy rõ quân lực của chúng đông hơn (đoàn quân Muslim) gấp bội. Tuy nhiên, Allah muốn phù hộ bất cứ ai (giành chiến thắng) là tùy ý Ngài. Quả thật, trong sự việc (số lượng ít đánh thắng số lượng đông) đó là bài học dành cho những ai biết suy ngẫm.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 3:12 đến 3:13

حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے تو وہ لوگوں کو ایک غیر اہم آواز معلوم ہوتی ہے۔ ایک طرف وقت کا ماحول ہوتا ہے جس کے قبضہ میں ہر قسم کے مادی وسائل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا قافلہ ہوتا ہے جس کو ابھی ماحول میں کوئی جماؤ حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ مادی مفادات وابستہ نہیں ہوتے۔ ان حالات میں حق کی طرف بڑھنا ماحول سے کٹنے اور مفادات سے محروم ہونے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے مفادات کو بچانے کی خاطر حق کو نہیں مانتا۔ اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر ایک تنہا داعی کی صف میں آنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ مگر یہ چیزیں جو انسان کو آج اہم نظر آتی ہیں وہ فیصلہ کے دن کسی کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ ان چیزوں کي جو کچھ اہمیت ہے صرف اس وقت تک ہے جب کہ معاملہ انسان اور انسان کے درمیان ہے۔ جب قیامت کا پردہ پھٹے گا اور معاملہ انسان اور خدا کے درمیان ہوجائے گا تو یہ چیزیں اتنی بے قیمت ہوجائیں گی جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ داعی اس دنیا میں بظاہر بے زور دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہی زور والا ہے۔ کیوں کہ اس کے پیچھے خدا ہے۔ منکر بظاہر اس دنیا میں طاقت ور دکھائی دیتا ہے۔ مگر وہ بالکل بے طاقت ہے۔ کیوں کہ اس کی طاقت ایک وقتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

نبوت کے چودھویں سال بدر کا معرکہ آخرت میں ہونے والے واقعہ کا ایک دنیوی نمونہ تھا۔ حق کا انکار کرنے والے تعداد اور طاقت میں بہت زیادہ تھے اور حق کو ماننے والے تعداد اور طاقت میں بہت کم تھے۔ اس کے باوجود منکرین کو غیر معمولی شکست ہوئی اور حق کے پیروؤں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ اللہ ہمیشہ حق کے پیروؤں کی جانب ہوتا ہے۔ اتنے غیر معمولی فرق کے باوجود اتنی غیر معمولی فتح اللہ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ یہ خدا کی طرف سے اس بات کا ایک مظاہرہ ہے کہ حق اس عالم میں تنہا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ منکرین کے لیے وہ ایک ظاہری دلیل بھی ہے جس میں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کی اس دنیا میں وہ کتنے بے جگہ ہیں۔ داعیٔ حق کے کلام اور اس کی زندگی میں کھلی ہوئی علامتیں ہوتی ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ مگرجو سرکش لوگ ہیں وہ اس کو رد کرنے کے لیے الفاظ کی ایک پناہ گاہ بنا لیتے ہیں۔ وہ جھوٹی توجیہات میں جیتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ آخرت کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں، جهاں انھيں يه پتا چل جائے گا کہ وہ جن الفاظ کا سہارا ليے ہوئے تھے وہ حقیقت کے اعتبار سے کس قدر بے معنی تھے۔