Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ali 'Imran 3:133

3:133
۞ وسارعوا الى مغفرة من ربكم وجنة عرضها السماوات والارض اعدت للمتقين ١٣٣
۞ وَسَارِعُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا ٱلسَّمَـٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ١٣٣
۞ وَسَارِعُوٓاْ
إِلَىٰ
مَغۡفِرَةٖ
مِّن
رَّبِّكُمۡ
وَجَنَّةٍ
عَرۡضُهَا
ٱلسَّمَٰوَٰتُ
وَٱلۡأَرۡضُ
أُعِدَّتۡ
لِلۡمُتَّقِينَ
١٣٣
あなたがたの主の御赦しを得るため,競いなさい。天と地程の広い楽園に(入るために)。それは主を畏れる者のために,準備されている。

— Ryoichi Mita

Các ngươi hãy mau mau đến với lòng tha thứ của Thượng Đế của các ngươi và Thiên Đàng, nơi mà khoảng rộng của nó như các tầng trời và trái đất, được chuẩn bị cho những người ngoan đạo.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اس آیت کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں ان عبادات کو بالکل محسوس طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ گویا کچھ لوگ ہیں جو کسی انعامی مقابلے میں ایک مقررہ ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ……………” دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی مغفرت کی طرف جاتی ہے ‘ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ……………” دوڑ کر چلو اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے ۔ “ دوڑو ! وہ ہے جنت وہاں ہے مغفرت ! أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ……………” جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ “

اس کے بعد متقین کی صفات بیان کی جاتی ہیں الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ……………” وہ لوگ جو بدحالی اور خوشحالی دونوں میں خرچ کرتے ہیں ۔ “

یعنی وہ انفاق پر ہر وقت ثابت قدمی سے عمل پیرا ہیں ‘ وہ اپنی روش پر رواں دواں ہیں ‘ نہ خوشحالی میں آپے سے باہر ہوتے ہیں اور نہ بدحالی میں نہج سے پیچھے ہٹتے ہیں ۔ خوشحالی انہیں مغرور کرکے غافل نہیں بنادیتی اور بدحالی ان کی گوشمالی کرکے انہیں ان کا نصب العین بھلا نہیں دیتی ۔ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہر وقت دامن گیر رہتا ہے۔ وہ حرص وہ آذ سے آزاد ہوچکے ہوتے ہیں ۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا شعور رکھتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ کا خوف ہر وقت زندہ رہتا ہے ۔ نفس انسانی جو اپنے مزاج کے اعتبار سے بخیل ہوتا ہے اور جس کے اندر دولت کی طبعی محبت ہوتی ہے ‘ اسے ہر وقت انفاق فی سبیل اللہ پر قائم رکھنے کے لئے ایک قوی تر جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ جذبہ مال کی محبت سے قوی تر ہونا چاہئے ۔ تاکہ وہ حرص وآز کے فطری بندھن کو توڑ سکے ۔ اور یہ جذبہ صرف اللہ خوف کا جذبہ ہی ہوسکتا ہے ۔ اور یہ کیا ہوتا ہے ؟ یہ ایک نہایت ہی لطیف اور گہرا شعور ہوتا جس کے ساتھ روح اونچی پرواز کرتی ہے ۔ وہ خالص ہوجاتی ہے اور قید وبند سے آزاد ہوجاتی ہے ۔