Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ali 'Imran 3:44

3:44
ذالك من انباء الغيب نوحيه اليك وما كنت لديهم اذ يلقون اقلامهم ايهم يكفل مريم وما كنت لديهم اذ يختصمون ٤٤
ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَـٰمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ٤٤
ذَٰلِكَ
مِنۡ
أَنۢبَآءِ
ٱلۡغَيۡبِ
نُوحِيهِ
إِلَيۡكَۚ
وَمَا
كُنتَ
لَدَيۡهِمۡ
إِذۡ
يُلۡقُونَ
أَقۡلَٰمَهُمۡ
أَيُّهُمۡ
يَكۡفُلُ
مَرۡيَمَ
وَمَا
كُنتَ
لَدَيۡهِمۡ
إِذۡ
يَخۡتَصِمُونَ
٤٤
これは幽玄界の消息の一部であり,われはこれをあなたに啓示する。かれらが籤矢を投げて誰がマルヤムを養育すべきかを決めた時,あなたはかれらの中にいなかった。またかれらが相争った時も,あなたはかれらと一緒ではなかった。

— Ryoichi Mita

Đó là những nguồn tin (về Zakariya và Maryam) thuộc thể loại vô hình mà TA (Allah) đã mặc khải cho Ngươi (Thiên Sứ Muhammad), bởi Ngươi không có mặt lúc họ cùng nhau bắt thăm xem ai trong số họ được quyền ưu tiên bảo hộ Maryam và Ngươi cũng không có mặt lúc họ tranh luận nhau về vấn đề này.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جب ہیکل کے خدام کے درمیان یہ تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ ان میں سے کون اس کا سرپرست ہو ‘ جب اس کی ماں اسے لیکر ہیکل میں آئیں۔ وہ اسی وقت چھوٹی بچی تھی ۔ ماں اس لئے لائی تھی کہ وہ اپنی نذر پوری کرے اور جو عہد اس نے اپنے رب کے ساتھ کیا ہے۔ اسے پورا کرے ۔ اس آیت میں ایسے واقعہ کا ذکر ہے جو عہد قدیم میں مذکور نہیں ہے اور نہ عہد جدید میں مذکور ہے یعنی ان نسخوں میں جو آج کل مروج ہیں ‘ لیکن یہ بات ایسی تھی جو احبار اور رہبان کے درمیان معروف تھی ۔ یعنی خدام کا قلمیں پھینکنے کا واقعہ اس دور میں مشہور واقعہ تھا۔ اور یہ اس لئے تھا کہ کون اس کی کفالت کرے ۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کی تفصیلات نہیں دی ہیں ۔ اور شاید اس لئے کہ سامعین قرآن کے نزدیک یہ واقعہ مشہور ومعروف ہوگا۔ یا یہ کہ قرآن کریم نے واقعہ بتادیا اور اس سے زیادہ تفصیلات بتانے کی ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ واقعہ ہی یہ اسی قدر ہوگا۔ مثلاً انہوں نے کفالت کے لئے کوئی ایسا طریقہ طے کرلیا ہوگا۔ یعنی قلمیں پھینک کر یہ معلوم کرتے ہوں گے کہ کفالت کس کے حصے میں آئے۔ جیسا کہ آج کل قرعہ اندازی میں ہوتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی قلمیں نہر اردن میں پھینکیں ‘ تو سب قلمیں موجوں کے ساتھ بہہ گئیں مگر زکریا کی قلم اپنی جگہ ٹھہری رہی اور یہ ان کے درمیان علامت تھی کہ کفالت کس کے حصے میں آئے ۔

بہرحال یہ سب واقعات پردہ غیب میں تھے ۔ اس وقت نبی ﷺ حاضر نہ تھے ۔ نیز رسول ﷺ کے علم تک بھی یہ بات نہ پہنچی تھی ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات اہل ہیکل کے خفیہ رازوں میں سے ہو جسے عوام کے لئے شائع کرنا منع ہو ‘ اور قرآن نے اس کا افشا کرکے ‘ اس وقت کے علمائے اہل کتاب کو بتایا کہ حضرت محمد ﷺ رسول صادق ہیں اور قرآن کریم وحی الٰہی پر مبنی ہے ۔ کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اہل کتاب آئے بھی مناظرہ کے لئے تھے ۔ اگر ان کے ہاں یہ واقعہ نہ ہوتا تو کہتے کہ ایسا کوئی واقعہ ہی سرے سے نہیں ہوا۔

اب یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا واقعہ شروع ہوتا ہے ۔ لوگوں کے معمولات کے مطابق یہ عظیم اعجوبہ ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی معمول کے مطابق مشیئت کی جو شان ہوتی ہے وہ اس کے خلاف ہے۔