Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ali 'Imran 3:55

3:55
اذ قال الله يا عيسى اني متوفيك ورافعك الي ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ثم الي مرجعكم فاحكم بينكم فيما كنتم فيه تختلفون ٥٥
إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَـٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ٥٥
إِذۡ
قَالَ
ٱللَّهُ
يَٰعِيسَىٰٓ
إِنِّي
مُتَوَفِّيكَ
وَرَافِعُكَ
إِلَيَّ
وَمُطَهِّرُكَ
مِنَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
وَجَاعِلُ
ٱلَّذِينَ
ٱتَّبَعُوكَ
فَوۡقَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوٓاْ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
ٱلۡقِيَٰمَةِۖ
ثُمَّ
إِلَيَّ
مَرۡجِعُكُمۡ
فَأَحۡكُمُ
بَيۡنَكُمۡ
فِيمَا
كُنتُمۡ
فِيهِ
تَخۡتَلِفُونَ
٥٥
アッラーがこう仰せられた時を思い起せ。「イーサ―よ,われはあなたを召し,われのもとにあげて,不信心者(の虚偽)から清めるであろう。またわれは,あなたに追従する者を,審判の日まで,不信心の者たちの上位におくであろう。それからあなたがたは(皆)われの許に帰り,あなたがたが争っていたことに就いて,われは裁決を下すであろう。

— Ryoichi Mita

(Hỡi Thiên Sứ Muhammad, Ngươi hãy nhớ lại) khi Allah phán: “Hỡi Ysa, nay TA sẽ làm cho Ngươi chết (tạm), rồi mang (cả hồn lẫn xác) Ngươi lên cùng với TA và TA sẽ tẩy sạch Ngươi khỏi (mọi lời cáo buộc của) những kẻ vô đức tin và TA sẽ phù hộ cho những ai theo Ngươi cao hơn những kẻ vô đức tin cho đến Ngày Phục Sinh. Rồi đây các ngươi được đưa về trình diện TA để TA phân xử mọi điều mà các ngươi tranh chấp lẫn nhau.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 3:55 đến 3:57

آپ کی وفات کیسے تھی ‘ آپ کا آسمانوں پر اٹھایاجانا کیسے تھا ۔ یہ غیبی امور ہیں اور یہ متشابہات میں داخل ہیں ۔ جن کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نہ عقیدہ میں فائدہ ہے اور نہ شریعت میں فائدہ ہے ۔ جو لوگ اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے بحث ومجادلہ کا موضوع بناتے ہیں تو وہ آخر کار ایسے حالات تک پہنچتے ہیں جو ظاہری اور سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ مزید التباس اور پیچیدگی میں پھنس جاتے ہیں اور وہ کوئی قطعی حقیقت سامنے نہیں لاسکتے ۔ نہ دل کو کوئی تسلی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسا امر ہے جس کی تاویل اللہ ہی جانتاہے……………رہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو قیامت تک ان لوگوں سے برتر کردیا ہے جنہوں نے ان کا انکار کیا ہے ۔ تو اس کا مفہوم بہت ہی سہل ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح دین کو ماننے والے ہیں اور وہ اسلام ہے ۔ اور اسلام وہ دین ہے جس کی حقیقت ہر نبی کے علم میں تھی ۔ اور ہر رسول نے اسلام ہی کی تبلیغ کی ۔ اور جب بھی کسی نے دین حقہ پر ایمان لایا تو وہ اسلام ہی تھا ‘ جب وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں آتے ہیں جو ان کا انکار کرتے ہیں تو اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے وہ لوگ جو ایمان لائے برتر ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ حضرت عیسیٰ کے متبعین ہیں ۔ اللہ کا دین ایک ہے ۔ اسی دین کو لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئے تھے ۔ جس طرح ان سے پہلے اور ان کے رسول سب کے سب اسی دین کو لے کر آئے اور جو لوگ حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرتے ہیں وہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد نبی آخرالزمان تک تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں …………یہی عام مفہوم ہے جو اس سورت کے سیاق وسابق سے منطبق ہے ۔ اور یہی مفہوم حقیقت دین اور حقیقت ایمان کے ساتھ مطابق ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل کفر کا انجام کار یہی ہے کہ وہ سب اللہ کے سامنے جائیں گے ۔

اس آیت میں اس بات کا فیصلہ کردیا گیا ہے کہ ہر کسی کو کئے کی جزاء ملے گی اور اس قدر انصاف ہوگا کہ بال برابر بےانصافی بھی نہ ہوگی ۔ اس سلسلے میں لوگوں کی تمنائیں جو بھی ہوں یا انہوں نے جو افتراء باندھا ہو …………اللہ کی طرف لوٹنا اٹل ہے ۔ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں اور دنیا وآخرت میں اہل کفر کے لئے عذاب طے ہوچکا ہے ‘ کوئی نہیں ہے کہ اسے رد کرسکے ۔ اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اس کے بعدنیک کام کئے انہیں پورا پورا اجرملنا ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی ممکن ہی نہیں اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرے گا اور وہ کیسے کرے گا جب وہ خود ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔

اور اہل کتاب کا یہ گمان کہ وہ محض چنددن ہی آگ میں داخل ہوں گے اور اپنے اس گمان پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے بارے میں جو صغریٰ کبریٰ ملایا وہ سب ان کی نفسانی خواہشات ہیں وہ فاسد ہیں ‘ وہ باطل ہیں اور ان کی کوئی اصل و اساس نہیں ہے۔

جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ جس کے بارے میں اس وقت تک رسول ﷺ کا ان لوگوں کے ساتھ مناظرہ ہورہا تھا تو اس کے بعد اس قصے پر ایک اختتامیہ آجاتا ہے اور اس اختتامیہ میں وہ تمام حقائق کھول دیئے جاتے ہیں جو اس قصے کے واقعات سے اخذ ہوتے ہیں ۔ اور اب رسول اللہ ﷺ کو وہ بات بتادی جاتی ہے جسے اب اہل کتاب کے سامنے اس مباحثے کو ختم کرنے کے لئے پیش کردیں ‘ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے جس کے ذریعہ یہ تمام مباحثہ اور مذاکرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اور اس میں وہ حقیقت بھی آجاتی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں ۔ جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں اور یہ نتیجہ مکمل یقین اور مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔