Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ali 'Imran 3:57

3:57
واما الذين امنوا وعملوا الصالحات فيوفيهم اجورهم والله لا يحب الظالمين ٥٧
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٥٧
وَأَمَّا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
فَيُوَفِّيهِمۡ
أُجُورَهُمۡۗ
وَٱللَّهُ
لَا
يُحِبُّ
ٱلظَّٰلِمِينَ
٥٧
主は信仰して善行に勤む者を(十分に)報奨される。だがアッラーは,不義を行う者を御好みにならない。

— Ryoichi Mita

“Riêng những người có đức tin và hành thiện, họ sẽ được trả cho đầy đủ phần công lao của họ. Quả thật, Allah không ưa thích những kẻ làm điều sai quấy.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 3:55 đến 3:57

آپ کی وفات کیسے تھی ‘ آپ کا آسمانوں پر اٹھایاجانا کیسے تھا ۔ یہ غیبی امور ہیں اور یہ متشابہات میں داخل ہیں ۔ جن کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نہ عقیدہ میں فائدہ ہے اور نہ شریعت میں فائدہ ہے ۔ جو لوگ اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے بحث ومجادلہ کا موضوع بناتے ہیں تو وہ آخر کار ایسے حالات تک پہنچتے ہیں جو ظاہری اور سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ مزید التباس اور پیچیدگی میں پھنس جاتے ہیں اور وہ کوئی قطعی حقیقت سامنے نہیں لاسکتے ۔ نہ دل کو کوئی تسلی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسا امر ہے جس کی تاویل اللہ ہی جانتاہے……………رہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو قیامت تک ان لوگوں سے برتر کردیا ہے جنہوں نے ان کا انکار کیا ہے ۔ تو اس کا مفہوم بہت ہی سہل ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح دین کو ماننے والے ہیں اور وہ اسلام ہے ۔ اور اسلام وہ دین ہے جس کی حقیقت ہر نبی کے علم میں تھی ۔ اور ہر رسول نے اسلام ہی کی تبلیغ کی ۔ اور جب بھی کسی نے دین حقہ پر ایمان لایا تو وہ اسلام ہی تھا ‘ جب وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں آتے ہیں جو ان کا انکار کرتے ہیں تو اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے وہ لوگ جو ایمان لائے برتر ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ حضرت عیسیٰ کے متبعین ہیں ۔ اللہ کا دین ایک ہے ۔ اسی دین کو لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئے تھے ۔ جس طرح ان سے پہلے اور ان کے رسول سب کے سب اسی دین کو لے کر آئے اور جو لوگ حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرتے ہیں وہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد نبی آخرالزمان تک تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں …………یہی عام مفہوم ہے جو اس سورت کے سیاق وسابق سے منطبق ہے ۔ اور یہی مفہوم حقیقت دین اور حقیقت ایمان کے ساتھ مطابق ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل کفر کا انجام کار یہی ہے کہ وہ سب اللہ کے سامنے جائیں گے ۔

اس آیت میں اس بات کا فیصلہ کردیا گیا ہے کہ ہر کسی کو کئے کی جزاء ملے گی اور اس قدر انصاف ہوگا کہ بال برابر بےانصافی بھی نہ ہوگی ۔ اس سلسلے میں لوگوں کی تمنائیں جو بھی ہوں یا انہوں نے جو افتراء باندھا ہو …………اللہ کی طرف لوٹنا اٹل ہے ۔ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں اور دنیا وآخرت میں اہل کفر کے لئے عذاب طے ہوچکا ہے ‘ کوئی نہیں ہے کہ اسے رد کرسکے ۔ اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اس کے بعدنیک کام کئے انہیں پورا پورا اجرملنا ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی ممکن ہی نہیں اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرے گا اور وہ کیسے کرے گا جب وہ خود ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔

اور اہل کتاب کا یہ گمان کہ وہ محض چنددن ہی آگ میں داخل ہوں گے اور اپنے اس گمان پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے بارے میں جو صغریٰ کبریٰ ملایا وہ سب ان کی نفسانی خواہشات ہیں وہ فاسد ہیں ‘ وہ باطل ہیں اور ان کی کوئی اصل و اساس نہیں ہے۔

جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ جس کے بارے میں اس وقت تک رسول ﷺ کا ان لوگوں کے ساتھ مناظرہ ہورہا تھا تو اس کے بعد اس قصے پر ایک اختتامیہ آجاتا ہے اور اس اختتامیہ میں وہ تمام حقائق کھول دیئے جاتے ہیں جو اس قصے کے واقعات سے اخذ ہوتے ہیں ۔ اور اب رسول اللہ ﷺ کو وہ بات بتادی جاتی ہے جسے اب اہل کتاب کے سامنے اس مباحثے کو ختم کرنے کے لئے پیش کردیں ‘ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے جس کے ذریعہ یہ تمام مباحثہ اور مذاکرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اور اس میں وہ حقیقت بھی آجاتی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں ۔ جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں اور یہ نتیجہ مکمل یقین اور مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔