Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ali 'Imran 3:59

3:59
ان مثل عيسى عند الله كمثل ادم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون ٥٩
إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ ۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٍۢ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٥٩
إِنَّ
مَثَلَ
عِيسَىٰ
عِندَ
ٱللَّهِ
كَمَثَلِ
ءَادَمَۖ
خَلَقَهُۥ
مِن
تُرَابٖ
ثُمَّ
قَالَ
لَهُۥ
كُن
فَيَكُونُ
٥٩
イーサーはアッラーの御許では,丁度アーダムと同じである。かれが泥でかれ(アーダム) を創られ,それに「有れ。」と仰せになるとかれは(人間として)存在した。

— Ryoichi Mita

Quả thật, việc tạo hóa Ysa đối với Allah cũng giống như (việc Ngài đã tạo ra) Adam. Ngài đã tạo (Adam) từ đất sét rồi phán: “Hãy thành!” thế là (Adam) thành (con người hoàn chỉnh đúng như thế).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 3:59 đến 3:63

مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔

نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ 15 ۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔

اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔