Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ali 'Imran 3:6

3:6
هو الذي يصوركم في الارحام كيف يشاء لا الاه الا هو العزيز الحكيم ٦
هُوَ ٱلَّذِى يُصَوِّرُكُمْ فِى ٱلْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٦
هُوَ
ٱلَّذِي
يُصَوِّرُكُمۡ
فِي
ٱلۡأَرۡحَامِ
كَيۡفَ
يَشَآءُۚ
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّا
هُوَ
ٱلۡعَزِيزُ
ٱلۡحَكِيمُ
٦
かれこそは,御心のままにあなたがたを胎内に形造られる方である。かれの外に神はなく,偉力ならびなき英明な方であられる。

— Ryoichi Mita

Ngài là Đấng đã tạo hình hài cho các ngươi trong các dạ con (của các bà mẹ) như thế nào tùy theo ý muốn của Ngài. Không có Thượng Đế (đích thực) nào khác ngoài Ngài, Đấng Toàn Năng, Đấng Sáng Suốt.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وہ رحم مادر میں تمہیں ایک شکل و حرارت دیتا ہے ‘ جس طرح اس کی مشیئت ہوتی ہے پھر وہ تمہیں اس شکل و صورت کے ساتھ مناسب خصوصیات بھی عطا کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کے سوا کوئی ذات اس تصویر سازی میں شریک نہیں ہوتی ‘ یہ کام وہ صرف اپنے ارادے اور اپنی مشیئت سے کرتا ہے ۔” جس طرح چاہتا ہے۔ “ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ “ وہ عزیز ہے۔ “ وہ اس تخلیق اور تصویر سازی پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔” وہ حکیم ہے ‘ یہ تمام تخلیقی عمل بڑی گہری ‘ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس میں نہ کوئی رکاوٹ آتی ہے ‘ اور نہ اس کام میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ “

تخلیق انسان کی طرف یہاں اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے خطاب اہل کتاب سے ہے اور اہل کتاب کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے میں نہایت ہی غلط خیالات اور شکوک و شبہات پائے جاتے تھے ۔ اللہ ہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ کی تصویر کشی کی ‘ جس طرح اس نے چاہا ‘ یہ عقیدہ باطل ہے کہ حضرت عیسیٰ بذات خود رب ہیں ۔ یا خدا ہیں ‘ یا خدا کے بیٹے ہیں یا کوئی لاہوتی ناسوتی اقنوم ہیں۔ اس لئے کہ یہ تصورات ناقابل فہم ناقابل ادراک ہونے کے ساتھ ساتھ ‘ عقیدہ توحید کے صحیح ‘ قابل فہم اور واضح تصور کے بھی خلاف ہیں ۔

اس کے بعد قرآن مجید ان لوگوں کی نشان دہی کرتا ہے جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ۔ اور یہ لوگ وہ ہیں جو قرآن کریم کی قطعی الدلالت آیات کو چھوڑ کر ان آیات کے درپے ہوتے ہیں جن کے مفہوم میں تاویل کا احتمال ہوتا ہے تاکہ وہ ایسی آیات کی غلط تاویل کرکے اسلامی نظریات کے اندر شبہات پیدا کریں ۔ یہ نشان دہی اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل ایمان اور اہل حقائق کی حقیقی صفات بیان کردی جائیں ۔ یہ بتایا جائے کہ ان کا ایمان کس قدر خالص ہے ۔ اور کس طرح اللہ کے قطعی احکام کو بلا چون وچراء عمل میں لاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں۔